عہدیداران آغاز کیلئے سنجیدہ، بعض افراد کی مداخلتیں، مزید تین ماہ درکار ہونے کا امکان
حیدرآباد 6 جون (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ فلک نما کے قریب محلہ فاروق نگر میں آندھراپردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے بس ٹرمنل تعمیر ہوئے زائداز ایک برس گزر چکا ہے لیکن تاحال اِس ٹرمنل سے بس کی خدمات کا باضابطہ آغاز نہیں کیا جاسکا ہے۔ اب جبکہ ریاست تقسیم ہوچکی ہے اور ایسی صورت میں آندھراپردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن بھی منقسم ہوتے ہوئے تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ہوچکا ہے تو جو ٹرمنل کی تیاری میں کافی وقت لگنے کے بعد تعمیر مکمل ہوئی اُس پر نام کی تبدیلی کے لئے مزید وقت درکار ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیدار اِس بس ٹرمنل کے فوری آغاز کے متعلق سنجیدہ ہیں لیکن بعض مداخلتوں کے باعث وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ انتخابات سے قبل بھی اِس بس ٹرمنل کے آغاز سے قبل عہدیداروں نے توجہ مرکوز کروائی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا اب جبکہ انتخابات کا زمانہ ختم ہوئے نئی حکومت تشکیل پاچکی ہے تو ایسی صورت میں اس بس ٹرمنل کے آغاز کی راہیں ہموار کی جانی چاہئیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب تاحال محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیداروں کے درمیان اِس بس ٹرمنل کے باضابطہ آغاز کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اِس مسئلہ کو مزید تین ماہ کے لئے تعطل کا شکار بنایا جاسکتا ہے تاکہ اِس بس ٹرمنل کے افتتاحی تقریب کا بڑے پیمانہ پر انعقاد عمل میں لایا جاسکے۔ عوام کی سہولتوں کی پرواہ کئے بغیر کئے جانے والے محکمہ کے اِن اقدامات سے اطراف و اکناف کے علاقوں میں محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے متعلق بدظنی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ عہدیدار اِس مسئلہ پر توجہ نہ دیتے ہوئے عوام کی تکالیف میں اضافہ کررہے ہیں چونکہ اِس بس ٹرمنل کے آغاز کے پیش نظر فلک نما سے انجن باؤلی اور شاہ علی بنڈہ جانے والی سڑک پر موجود بس اسٹاپ کے شیڈس ہٹائے گئے زائداز دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور عوام سر راہ بس کے انتظار میں ٹھہرنے پر مجبور ہیں۔