فلک نما بس ٹرمنل کے آغاز میں تاخیر پر عوام کی ناراضگی

آئندہ دو ماہ میں بحال کرنے کا دباؤ، اے پی ایس آر ٹی سی کی لاپرواہی
حیدرآباد 26 فروری (سیاست نیوز) پرانے شہر میں عصری بس ٹرمنل کے آغاز کے لئے حکومت نے کئی برس قبل فلک نما کے قریب 5 ایکر اراضی مختص کرتے ہوئے نئے بس ٹرمنل کے آغاز کا فیصلہ کیا تھا اور اِس سلسلہ میں کافی انتظار کے بعد تعمیری کاموں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور یہ تعمیری کام 2012 ء میں ختم بھی ہوچکے ہیں۔ اِس کے باوجود بھی فلک نما بس ٹرمنل کا باضابطہ افتتاح عمل میں نہیں آیا۔ آندھراپردیش روڈ ٹرانسپورٹ کے عہدیدار بھی اِس کی وجوہات بتانے سے قاصر ہیں جبکہ بعض عہدیداروں کا یہ کہنا ہے کہ نوتعمیر شدہ بس ٹرمنل میں ابھی کچھ کام باقی ہیں جس کی وجہ سے اِس کا افتتاح عمل میں نہیں آیا۔ مقامی عوام کی جانب سے بس ٹرمنل کے آغاز میں تاخیر پر متعدد مرتبہ برہمی کا اظہار کیا جاچکا ہے چونکہ مقامی عوام کو بس ٹرمنل کے عدم آغاز کے سبب کئی تکالیف بالخصوص بس پاس کے حصول کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ابتداء میں جب یہ اراضی بس ٹرمنل کے لئے مختص کی گئی تھی اُس وقت اراضی کی ملکیت کے مسئلہ پر کئی ماہ تک تنازعہ جاری رہا

اور جب حکومت نے اراضی کے دعویدار محکمہ جات سے مشاورت کے بعد ملکیت کو قطعیت دے دی تو پھر اِس بس ٹرمنل کے تعمیری کاموں کا آغاز ہوا۔ تعمیر مکمل ہوئے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ٹرمنل کے آغاز میں ہورہی تاخیر سمجھ سے باہر ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آندھراپردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن آج بھی مکمل طور پر چارمینار بس اسٹانڈ کو فلک نما منتقل کرنے تیار نہیں ہے اِسی لئے یہ تاخیر ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے فلک نما بس ٹرمنل کو شروع کرنے کے لئے متعدد مرتبہ اجلاس منعقد کئے گئے لیکن کوئی قطعی فیصلہ اِن اجلاسوں میں نہیں ہوپایا جس کی بنیادی وجہ بس روٹ کا تعین بتائی جاتی ہے۔ چارمینار سے بس سرویس مکمل طور پر بند کرتے ہوئے اِس بس ٹرمنل کا آغاز کئے جانے کا امکان ہے۔ ایسی صورت میں بس ٹرمنل کے آغاز سے فلک نما کے قریب گہما گہمی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فلک نما بس ٹرمنل کے آغاز کے سلسلہ میں تاحال کوئی قطعی اطلاع نہیں دی جارہی ہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ آئندہ دو ماہ میں بہرصورت اِس ٹرمنل کا آغاز کردیئے جانے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔