اسرائیل کی بربریت ناقابل برداشت، متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی کے احتجاجی جلسہ سے سرکردہ خواتین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 16 اگست (پریس نوٹ) متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی (برائے خواتین) کی جانب سے ’’غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر یہودی بربریت کے خلاف‘‘ ایک ’’جلسہ احتجاج‘‘ 16 اگست کو خواجہ منشن فنکشن ہال مانصاحب ٹینک پر منعقد ہوا۔ جلسہ احتجاج کا آغاز درس قرآن سے ہوا۔ پروفیسر جمیل النساء صدر متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم و مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے جو ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے اس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں اور اسرائیل کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو اس نے فلسطین میں بپا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین مسلمانوں کی میراث ہے۔ یہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ اس مبارک سرزمین پر اسرائیل حکومت کا قیام ایک سازش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے فلسطین اور بیت المقدس کی اہمیت بتلاتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ؐ نے شہر مکہ و مدینہ کے بعد اس شہر کو محترم و مقدس قرار دیا اور ان تینوں شہروں کی طرف سفر کرنے کو جائز قرار دیا۔ اس لئے ہر مسلمان کا یہ فرض ہیکہ وہ اس ارض مقدس کی حفاظت اور وہاں کے مقیم فلسطینیوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے اپنی کوشش جاری رکھے اور اگر موقع ملے تو عملی طور پر ان کی مدد کیلئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ محترمہ شمیم سلطانہ صدر جمعیتہ النساء اسلامی نے کہا کہ اسرائیلی دشمنی دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہے مگر سارا عالم اسلام خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور دنیا کی لذتوں میں مصروف ہے یہی کمزور ایمان کی نشانی ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے متحدہ ہوکر اسرائیلی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ محترمہ اسماء زہرہ رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کا قرآن پاک میں تفصیل سے ذکر کیا ہے جہاں پر 40 ہزار انبیاء بھیجے گئے۔ انہوں نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسلوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروفیسر ذکیہ تقی نمائندہ انجمن معصومین شیعہ و رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے قرآن کریم کی یہ آیت جاء الحق وزھق الباطل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’حق آ گیا تو باطل کو جانا ہی ہے۔ موسی ؑ اور فرعون کی جنگ بھی حق و باطل کی جنگ تھی اور نمرود ابراہیم ؑ کی جنگ بھی حق و باطل کی جنگ تھی۔ حق و باطل کی جنگ میں یہ طئے شدہ بات ہیکہ باطل کو شکست پانا ہی ہے اور حق کو ضرور فتح ہی ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ مسلمانان عالم متحد و منظم ہوجائیں اور ظالموں کے خلاف صف آراء ہوں کیونکہ ظالم کو جو نہ روکے و ظالم کے ساتھ ہے۔ صبر جیتے گا اور ظلم ہارے گا۔ ہم سب ان مظلوم و بے بس فلسطینیوں کے ساتھ ہیں جو اپنے ہی مکاں میں بے مکیں ہوگئے۔ ان کا درد ہمارا درد ہے۔ ان کی آہ و بکا میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں۔ ہم دنیا کو یہ بتادیں کہ کمیٹی اس وقت تک اپنا یہ احتجاج جاری رکھے گی جب تک کہ فلسطینیوں کو انصاف نہ مل جائے۔ محترمہ روحی خان نے مسلمانان عالم کے ذہنوں کو ایک چھوٹی سی چڑیا کے واقعہ کے ذریعہ جھنجوڑا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ جبین رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے احتجاج میں شریک خواتین کے ایمان کو جھنجوڑا اور کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہیکہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور ظالم اقوام کے تئیں ہماری پالیسیوں و سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ محترمہ تہنیت اطہر صدر مسلم گرلز اسوسی ایشن و رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے کہا کہ قرآن کریم میں فعل ’’بارکنا‘‘ پانچ بار آیا ہے اور پانچوں ہی مرتبہ اس سے مراد ارض مقدس، بیت المقدس کے اطراف کے علاقہ قرار دیا۔ انہوں نے حضرت عمر ؓ کے اس تاریخی عہد کا ذکر کیا جس میں حضرت عمر ؓ نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی ذمہ داریوں کو سرکاری طور پر قبول کیا۔ اس وقت سے لیکر آج تک مسلمان اپنے خون سے اس عہدنامے کا پاس اور اس سرزمین اور وہاں کے فلسطینی باشندوں کی حفاظت کرتے آرہے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ جبین کی دعا پر جلسہ احتجاج کا اختتام عمل میں آیا۔ ہزار سے زائد خواتین اس جلسہ احتجاج میں شرکت کیں۔ جلسہ احتجاج کی کارروائی پروفیسر رفیق النساء نے چلائی۔