فلسطین اور پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ امن کی خواہش

یروشلم۔13 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کی مخلوط حکومت نے فلسطین اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ امن کی خواہش کا اظہار کیا ۔ انھوں نے نئی حکومت کی تیاری شروع کردی ہے ۔ پارلیمنٹ کو مخلوط حکومت کی رہنمایانہ خطوط پیش کئے گئے جس میں کہا گیا کہ یہودی عوام کا اسرائیل کی سرزمین پر ایک مملکت کا ناقابل اعتراض حق ہے ، یہ اسکی قومیت اور تاریخی سرزمین ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت فلسطین اور دیگرتمام پڑوسیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیلئے سفارتی عمل کو آگے بڑھائے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سلامتی ، تاریخ اور قومی مفادات کو بھی برقرار رکھا جائے گا ۔ ایسے کسی معاہدہ کو پارلیمنٹ میں جسے نسیٹ کہا جاتا ہے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا اورقانونی طورپر ضرورت پڑنے پر ریفرنڈم کرایا جائے گا ۔نتن یاہو کی نئی حکومت میں ایسے وزراء کو شامل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جو مقبوضہ مغربی کنارہ

اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی توسیع کے عزائم رکھتے ہیں حالانکہ اسی وجہ سے امن مذاکرات کئی مرتبہ ناکام ہوچکے ہیں۔ نتن یاہو نے 17 مارچ کے انتخابات میں اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ فلسطینی مملکت قائم ہونے نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد نتن یاہو کو اپنے ریمارکس واپس لینے پڑے اور رائے دہی کے دن اس وارننگ کی وجہ سے انھیں معذرت خواہی کرنی پڑی کہ عرب اسرائیلی انتخابات میں بھاگ دوڑ مچارہے ہیں ۔ حکومت کی دیگر پالیسیوں میں معیشت میں بہتری ، تعلیم اور ماحولیات کا تحفظ اور اسرائیلی عوام کے معیار زندگی میں اضافہ شامل ہیں۔ نتن یاہو نے 2009 ء اور 2013 ء میں دوپیشرو حکومتوں کے موقع پر جو باتیں کہی تھی اس میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ یہ رپورٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کی گئی جہاں قانون سازی کیلئے رائے دہی کی تیاری ہورہی ہے اس کے بعد کابینہ میں توسیع کی جائے گی ۔ نتن یاہو کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں 61 نشستوں کی انتہائی معمولی اکثریت حاصل ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی حکومت پر رائے دہی جمعرات یا پیر کو ہوگی ۔