فلسطینی قیدیوں کی رہائی متاثر ہونے کا اندیشہ

یروشلم 8 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی کابینہ نے آج ایک قانون میں تبدیلیوں کو منظوری دیدی جس کے نتیجہ میں اسرائیلیوں کا قتل کرنے والے فلسطینیوں کو ملنے والی معافی کو روکا جاسکتا ہے ۔ اس ترمیم کو قانون کی شکل اختیار کرنے سے قبل پارلیمنٹ کی منظوری ملنی ضروری ہے ۔ اس قانون کے نتیجہ میں اسرائیل کی عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ اسرائیل کے صدر کو قتل کے الزام میں قید کی سزا کاٹنے والے کسی بھی شخص کی سزا کو مختصر کرنے سے روک دے ۔ کٹر پسند سمجھی جانے والی ایک یہودی پارٹی نے اس ترمیم کی پہل کی تھی اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اس قانون کے ذریعہ ان فلسطینیوں کی رہائی کو روکنا ہے جنہوں نے اسرائیلیوں کو قتل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس قانون کے نتیجہ میں کوئی بھی قتل کا ملزم سزا سے بچ نہیں پائے گا ۔

پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سفارتی معاملتوں کے ذریعہ اس طرح سے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر رہا کرنے کے نتیجہ میں اسرائیلی عوام کا مضحکہ اڑتا ہے اسی طرح فوجداری قتل کی سزاوں کو کم کرنا بھی درست نہیں ہے ۔ امریکہ کی تائید سے فلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری بات چیت اس وقت ختم ہوگئی تھی جب اپریل میں اسرائیل نے طویل وقت سے قید کی سزا کاٹ رہے 26 فلسطینیوں کے چوتھے اور آخری گروپ کو رہا کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ ان پر اسرائیلیوں کے قتل کا الزام ہے ۔ اسرائیل نے ان کو رہا کرنے کیلئے 2013 میں معاہدہ کیا تھا ۔ بات چیت کے جو ادوار چل رہے تھے اس دوران اسرائیل نے جملہ 78 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا ۔ اسرائیل کے اس اقدام کے نتیجہ میں وہاں کٹر پسند یہودیوں میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تھی ۔