واشنگٹن ۔ 17 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کرنے والے فلسطینی وفد کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا کے اعلی سفارتکار نے فلسطینی وفد پر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اردن کی جانب سے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک میں فلسطین کی تیارکردہ ایک قرارداد ‘ویٹو کرنے کا حق استعمال’ کر سکتا ہے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نومبر 2016ء کے اختتام تک فلسطینی سرزمین پر قبضہ ختم کر دے۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات کی سربراہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں اعلی امریکی سفارتکار کو بتایا کہ اگر واشنگٹن نے فلسطینی سے متعلق قرارداد ویٹو کی تو ایسی صورت میں وہ یو این کی تمام بین الاقوامی ایجنسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق پر مجبور ہوں گے جن میں معاہدہ روم خاص طور پر شامل ہو گا جس کے بموجب فلسطین کو ہیگ کی بین الاقوامی جرائم عدالت میں شمولیت کا حق مل جائے گا۔ذرائع کے مطابق فلسطینی وفد نے جان کیری کو آگاہ کر دیا ہے کہ فلسطینی فریق آج یو این سیکیورٹی کونسل میں اپنی قرارداد وٹنگ کے لئے پیش کریں گے۔یاد رہے کہ اس ملاقات سے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ممکنہ قرارداد کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے سوموار کو جان کیری سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی اطلاع دی تھی کہ امریکہ فلسطینیوں اور یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق نظام الاوقات وضع کرنے کے لیے کوششوں کو بلاک کردے گا۔