بیگم پیٹ میں ایک نوجوان کو پولیس کی شدید زدوکوب کا الزام
حیدرآباد۔/20اپریل، ( سیاست نیوز) ایک جانب حکومت اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداران فرینڈلی پولیسنگ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں تو دوسری جانب سے بعض ملازمین پولیس حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت اور محکمہ پولیس کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رات کے وقت گھرکے پاس بیٹھے ہوئے نوجوانوںکو پولیس نے بڑی بے رحمی کے ساتھ لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے پیٹا اور ان نوجوانوں میں ایک کو شدید زخم آئے ہیں جس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے اور زخمی نوجوان رحیم کا گاندھی دواخانہ میں علاج جاری ہے اور زخمی نوجوان کے والدین کا کہنا ہے کہ لڑکے کی حالت بہت ہی نازک ہے اور یہ واقعہ دو دن قبل بیگم پیٹ پولیس اسٹیشن کے حدو د پاٹی گڈا این پی ٹی نگر کمیونٹی ہال کے پاس رحیم اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر رات 10 بجے بات چیت کررہا تھا اور اس وقت یہاں آنے والے بلیو کورٹس پولیس کانسٹبلس نے نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے حملہ کردیا کہ یہاں کیوں کھڑے ہوجبکہ نوجوان نے جواب دیا کہ میرا گھر یہیں پر ہے اس کے باوجود پولیس لاٹھیوں سے حملہ کررہی تھی کہ اس کے دوست وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ رحیم کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے اور رحیم کے والدین نے قریبی خانگی دواخانہ سے رجوع کرنے پر وہاں کے ڈاکٹرس نے گاندھی ہاسپٹل کو ریفر کیا اور والدین نے رات دیر گئے رحیم کو وہاں سے گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا۔ فی الحال رحیم کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ رحیم کے بھائی اکبر نے بتایا کہ پولیس کے حملے میں سر کو شدید چوٹ آنے کی وجہ سے وہیں پر گر گیا اور پولیس کا ظلم بے حد بڑھ گیا ہے اور اس واقعہ سے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو آگاہ کیا جائیگا۔