ممبئی ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں 13 روزہ دیویندر فرنویس حکومت نے آج ڈرامائی حالات میں تحریک اعتماد ندائی ووٹ سے جیت لیا۔ شیوسینا اور کانگریس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکمراں بی جے پی پر اکثریت ثابت کرنے میں ناکامی اور جمہوریت کا گلا گھوٹنے کا الزام عائد کیا۔ مہاراشٹرا اسمبلی میں آج بی جے پی رکن اسمبلی آشش شیلر نے ایک تحریک پیش کرتے ہوئے ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کی خواہش کی۔ اس تحریک کو ندائی ووٹ سے کامیاب قرار دیا گیا حالانکہ اپوزیشن شیوسینا اور کانگریس ووٹوں کی تقسیم پر زور دے رہے تھے۔ اسپیکر نے ہنگامہ آرائی اور گڑبڑ کے دوران تحریک منظور کئے جانے کا اعلان کیا۔ اس وقت شیوسینا کے ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے تھے۔ وہ تقسیم پر زور دے رہے تھے اور فوری کانگریس ارکان اسمبلی بھی اسی احتجاج میں شامل ہوگئے۔ اسپیکر ہری بھاؤ باگڑے نے ہنگامہ آرائی کے دوران تحریک منظور کئے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے اور تحریک اعتماد منظور کی جاچکی ہے۔ شیوسینا قائد مقننہ ایکناتھ شنڈے نے ندائی ووٹ سے تحریک اعتماد منظور کرنے پر شدید احتجاج کیا اور اسے جمہوریت کا گلا گھوٹنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی قواعد کے مطابق چلنی چاہئے اور دستور کا احترام کیا جانا چاہئے۔ نئی حکومت جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ ہم رائے دہی کی خواہش کررہے ہیں لیکن تحریک اعتماد کو ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا ہے۔ چیف منسٹر فرنویس نے اس موقع پر شنڈے سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کے ساتھ ’’اپوزیشن‘‘ کا خطاب جڑا ہوا ہے لیکن آپ سے یہ توقع ہیکہ ہر مسئلہ پر آپ مخالفت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے موافق عوام فیصلوں کی تائید کی جانی چاہئے۔ شردپوار کی این سی پی نے حکومت کی باہر سے تائید کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی ارکان اسمبلی آج ایوان میں ہنگامہ آرائی کے دوران خاموش اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بی جے پی کے اسمبلی میں 121 ارکان ہے۔ حلیف راشٹریہ سماج پکشا کے ایک رکن کی تائید کے باوجود اسے مزید ارکان کی تائید درکار تھی۔ این سی پی نے جس کے ایوان میں 41 ارکان ہے حکومت کی باہر سے تائید کرتے ہوئے یہ مشکل آسان کردی۔ اگر رائے دہی کے دوران ووٹوں کی تقسیم عمل میں آتی تب بھی بی جے پی حکومت باآسانی تحریک اعتماد جیت جاتی۔ پارٹی کو 7 آزاد اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ارکان کی تائید حاصل ہے۔ شیوسینا اور کانگریس نے ندائی ووٹ سے منظور کئے جانے کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے گورنر سی ایچ ودیا ساگر راؤ سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کو تازہ خط اعتماد حاصل کرنے کی ہدایت دیں۔
سینئر کانگریس لیڈر اور سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان نے اسمبلی کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹرا کے جمہوری عمل میں آج سیاہ دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی بھی تحریک اعتماد ندائی ووٹ سے منظور نہیں کی گئی۔ جب تک حکومت رائے دہی کے ذریعہ اکثریت ثابت نہیں کرتی وہ جائز حکومت نہیں ہوسکتی۔ صدر ریاستی کانگریس مہانت راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ یہ تحریک دراصل منظور ہی نہیں کی گئی کیونکہ رائے دہی نہیں ہوئی ہے۔ بی جے پی حکومت کیونکہ اقلیت میں ہے اس لئے اسے رائے دہی کے ذریعہ تحریک اعتماد کو کامیاب کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثریت ثابت کرنے کیلئے 25 ارکان کی تائید درکار تھی۔ اس سے پہلے اٹل بہاری واجپائی حکومت پارلیمنٹ میں صرف ایک ووٹ سے زوال سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اکثریت ثابت کرنے کیلئے الٹ پھیر کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے اور اسمبلی کی کارروائی اس وقت تک چلنے نہیں دی جائے گی جب تک حکومت تازہ تحریک اعتماد حاصل نہیں کرتی۔