فرقہ پرستوں کے اصلی چہروں کو بے نقاب کرنے خصوصی حکمت عملی

ٹی آر ایس اور اس کی حلیف کو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا ، سٹی کانگریس کمیٹی کے اجلاس سے اتم کمار ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے شہر سے ہندو مسلم فرقہ پرست تنظیموں کا خاتمہ کرنے اور حیدرآباد و سکندرآباد کے تمام اسمبلی و پارلیمانی حلقوں پر کانگریس کو کامیاب بنانے کے لیے کمربستہ ہوجانے کا پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا ۔ گاندھی بھون کے احاطہ میں واقع اندرا بھون میں حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس کی صدر انجن کمار یادو نے صدارت کی ۔ اس اجلاس میں سابق مرکزی وزراء سروے ستیہ نارائنا ، بلرام نائیک سابق رکن پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ اے آئی سی سی سکریٹری تلنگانہ انچارج بوس راجو سابق ارکان اسمبلی ایم ششی دھر ریڈی ، ڈی سدھیر ریڈی ، وشنووردھن ریڈی ، نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عابد رسول خاں جنرل سکریٹری ایس کے افضل الدین صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو ، سابق مئیر کارتیکا ریڈی ، صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، کانگریس قائد فیروز خاں سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید یوسف ہاشمی ، صمد خاں ، شکیل خاں کے علاوہ دوسرے اہم قائدین میں عامر جاوید ، اعجاز خاں ، امیر احمد سابق کارپوریٹرس ایس محمد واجد حسین ، محمد غوث وغیرہ شامل تھے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے ۔ کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ شہری و دیہی علاقوں میں حکمران ٹی آر ایس عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی ہے ۔ تمام سروے کانگریس کے حق میں آرہے ہیں جس سے ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے فرضی سروے جاری کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ٹی آر ایس کو 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں جب کہ خود انہیں اپنے سروے پر بھروسہ نہیں ہے ۔ اگر ہوتا تو ان کے ( اتم کمار ریڈی ) کے چیلنج کو قبول کرلیتے تھے ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ ان دونوں جماعتوں کے ساتھ ٹی آر ایس کی حلیف مجلس کو بھی عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کانگریس کی سونامی میں تینوں جماعتیں بہہ جائیں گی ۔ کانگریس پارٹی شہر کے بیشتر اسمبلی و پارلیمانی حلقوں پر کامیابی کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کرچکی ہے اور فرقہ پرستوں کا اصلی چہرہ بے نقاب کر کے ہی رہے گی ۔ پرانے شہر میں کانگریس کے طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارتے ہوئے کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گی ۔ شہر میں جن پانچ اسمبلی حلقوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے ۔ ان سے وہ نشستیں کانگریس چھین لے گی ۔ ہندو مسلم فرقہ پرستی دونوں ہندوستانی جمہوریت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ جو سیکولرازم کو دیمک کی طرح چاٹ کھا رہا ہے ۔ باسوراجو ، بحیثیت نمائندہ صدر کانگریس راہول گاندھی بن کر حیدرآباد پہونچے ہیں ۔ انہیں پارٹی ہائی کمان نے کافی اختیارات دئیے ہیں ۔ اے آئی سی سی سکریٹری کی حیثیت سے انہیں تلنگانہ کے جن اسمبلی حلقوں کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ ان حلقوں کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم کرنے کے اقدامات کریں گے ۔ اس کے علاوہ بوس راجو گاندھی بھون میں سب کے لیے دستیاب رہیں گے۔ اتم کمار ریڈی نے صدر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی انجن کمار یادو کو ہدایت دی کہ وہ شہر حیدرآباد میں ڈیویژن و بوتھ کمیٹیاں تیزی سے تشکیل دیں اور ہر بوتھ کمیٹی میں 14 پارٹی کارکنوں کا انتخاب کریں اور جلد از جلد حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی تشکیل دیں ۔ شکتی دیپ میں کانگریس کے تمام کارکن اپنے ناموں کا اندراج کریں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے پارٹی کے تمام قائدین و کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے نظریاتی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے پارٹی کی کامیابی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائے ۔ پارٹی کارکنوں کا اتحاد ہی کانگریس کی کامیابی کا ضامن ہے ۔۔