فرقہ وارانہ ہم آہنگی درہم برہم کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا انتباہ

نئی دہلی ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے راجیہ سبھا میں آج اپنے اس عہد کا اظہار کیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کہا کہ اس قسم کے واقعات میں حالیہ چند ماہ کے دوران کمی کا رجحان دیکھا گیا لیکن اس سال جنوری کے دوران ان میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’جو کوئی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرے گا… (اس کے خلاف) سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ امن و ہم آہنگی درہم برہم کرنے کی کوششوں میں ملوث افراد کو سخت جواب دیا جائے گا۔ تاہم اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صحت (صورتحال) کی محض واقعات کی تعداد کی بنیاد پر پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ مملکتی وزیرامور داخلہ کرن رجیجو نے اکٹوبر 2014ء سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات میں اکٹوبر تا ڈسمبر 2014ء کے دوران کی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ راجیہ سبھا میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق فرقہ وارانہ گڑبڑ کے اکٹوبر کے دوران 72 ، نومبر میں 49 اور ڈسمبر میں 33 واقعات پیش آئے تھے

لیکن جنوری 2015ء میں ایسے واقعات کی تعداد اچانک بڑھ کر 72 پہنچ گئی۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہاکہ ماضی کے یو پی اے دورحکومت میں ایسے واقعات میں اضافہ اور موجودہ بی جے پی دورحکومت میں ایسے واقعات میں کمی کیلئے وہ اپنی حکومت کی پیٹھ تھپک کر شاباشی نہیں دے رہے ہیں۔ قبل ازیں ڈگ وجئے سنگھ (کانگرسی) نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی درہم برہم کرنے کا سبب بننے والی بعض اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف مسئلہ اٹھایا تھا۔ ایک رکن نے دہلی کے ترلوک پوری میں گرجاگھروں پر حملوں کا مسئلہ اٹھایا جس پر کرن رجیجو نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ آیا یہ فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات تھے یا نہیں۔ اعداد کے مطابق دہلی میں اکٹوبر 2014ء کے دوران فرقہ وارانہ نوعیت کے تین واعقات پیش آئے لیکن بعد میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے دیگر متعلقہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی فرقہ پرستی پر مبنی بیانات کی مذمت کرچکے ہیں۔ مسٹر رجیجو نے کہا کہ وہ خود اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں

اور ارکان کو یقین دلایا کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق، امتیازی سلوک یا جانبداری نہیں ہوگی۔ سرکاری اعداد سے ظاہر ہوتا ہیکہ جنوری کے دوران فرقہ وارانہ نوعیت کے 21 واقعات مہاراشٹرا میں پیش آئے۔ اس مدت کے دوران بہار میں 12 اور کرناٹک میں 10 ایسے واقعات پیش آئے۔ پولیس فورسیس میں خواتین کے حالات ملازمت میں بہتری کے بارے میں مملکتی وزیرامور داخلہ نے کہا کہ حکومت نے تمام مرکزی زیرانتظام علاقوں کو ہدایت کی ہیکہ پولیس فورسیس میں خاتون عملہ کی تعداد 33 فیصد تک بڑھائی جائے۔ پولیس دراصل ریاستوں کے دائرہ کار میں شامل ہے اور ریاستوں کو پولیس اصلاحات اور فلاحی اقدامات پر عمل آوری کرنا ہوگا۔ مسٹر رجیجو نے کہا کہ مالیاتی سال 2010-11 ، 2009-10ء اور 2011-12 کے دوران گوشوارہ حسابات داخل نہ کرنے پر آندھراپردیش میں 1,441 خاطی تنظیموں اور انجمنوں کے خلاف نوٹس جاری کئے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1,142 کے منجملہ 1441 تنظیموں کے رجسٹریشن کی تنسیخ عمل میں آئی ہے۔