فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکے گی : سی پی ایم

نئی دہلی ۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آگرہ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے مذہب تبدیل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے آج کہا ہیکہ جبری مذہبی تبدیلی ایک جرم ہے اور اس کے نتیجہ میں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی۔ پارٹی نے مرکز اور اترپردیش حکومت سے جبری مذہبی تبدیلی میں ملوث رہنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی ایم پولیٹ بیورو نے ایک بیان میں کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی قائدین نے مسلمانوں اور عیسائیوں کا مذہب تبدیل کرانے غازی پور، علیگڑھ اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر اسی نوعیت کے پروگرامس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح کی مذہبی تبدیلی جس میں طاقت کا استعمال کیا جائے اور دھمکایا جائے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ پارٹی نے کہا ہیکہ آگرہ میں تقریباً 300 مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا جن میں اکثریت بہار اور مغربی بنگال کے غریب نقل مقام کرنے والوں کی ہے۔ انہیں جھوٹی تسلی، ترغیبات اور دھمکیوں کے ذریعہ مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس طرح کی جبری مذہبی تبدیلی تعزیری جرم ہے اور اس میں ملوث رہنے والوں یا حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہئے۔ پارٹی نے ریاستی حکومت اور مرکز سے مذہبی تبدیلی کو روکنے ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔