سائبر آباد پولیس اور بی ایس ایف میں رسہ کشی
حیدرآباد۔15 مئی (سیاست نیوز) کشن باغ عرش محل میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجہ میں 3 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس کو لے کر سائبرآباد پولیس اور بی ایس ایف کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ہجوم پر فائرنگ میں تین مسلمان جاں بحق ہوگئے تھے اور اس واقعہ کے بعد سائبرآباد پولیس میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس سائبرآباد مسٹر وائی گنگا دھر نے یہ واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ان کی حکم پر ہی بی ایس ایف عملہ نے ہجوم پر فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کے بعد حالات اچانک کشیدہ ہوگئے اور مقامی پولیس کو کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ فائرنگ میں ہلاکتیں پیش آنے کے بعد بی ایس ایف کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس واقعہ کی اندرونی تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد بی ایس ایف کے بٹالین 148 (کیرالا بٹالین) کے عہدیداروں نے سائبرآباد پولیس سے فائرنگ کے حکم کو تحریری طور پر دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سائبرآباد پولیس تحریری حکم حوالے کرنے میں تاخیر کررہی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے فائرنگ واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کے بعد اور بی ایس ایف کے رول کی مکمل تحقیقات کے پیش نظر سائبرآباد اور بی ایس ایف کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔