اسپیکر آندھراپردیش کی برہمی ، اپوزیشن لیڈر کی معطلی کیلئے تلگودیشم کا مطالبہ
حیدرآباد /22 اگست ( پی ٹی آئی ) آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو آج اپنی طرف سے کئے گئے ایک ’ غیر پارلیمانی ‘ دماغ پر اسپیکر کوڈیلا شیوپرساد راؤ کی سخت برہمی اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حکمراں تلگودیشم پارٹی کی ارکان نے اس مسئلہ پر جگن کی معذرت خواہی یا ایوان سے معطلی کا مطالبہ کیا ۔ جگن کی طرف سے کئے گئے ایک ریمارک پر اسمبلی میں آج زبرست ہنگامہ ہوا جس کے نتیجہ میں اجلاس کو دن بھر کیلئے ملتوی کرنا پڑا ۔ تلگودیشم پارٹی کے ارکان نے ان کے ریمارک کو انتہائی اہانت آمیز اور دل آزار قرار دیا ۔ حکمراں جماعت کے ارکان نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے معزرت خواہی نہ کئے جانے تک ایوان کی کارروائی کو روکے رکھنے کا عہد کیا ۔ تلگودیشم پارٹی کے ارکان نے کہا کہ ’’ یہ صرف ایوان اور ارکان کی انفرادی اہانت نہیں ہے بلکہ ان کروڑوں عوام کی اہانت بھی ہے جنہوں نے ہمیں منتخب کیا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کیلئے اس قسم کی عامیانہ و ناشائستہ زبان کا استعمال انتہائی افسوسناک و قابل مذمت ہے ‘‘ ۔ جس پر اسپیکر نے جگن کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آپ کے رتبہ اور آپ کی ذمہ داریوں کے اعتبار سے یہ انتہائی نامناسب و ناقابل استعمال ریمارک ہے میں نے ایوان میں پہلے کبھی ایسا ریمارک ہرگز نہیں سنا ۔ یہ نہ صرف غیر پارلیمانی ریمارک ہے بلکہ مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ ریمارک بھی ہے ‘‘ ۔ ایک مرحلہ پر اپوزیشن لیڈر جگن اپنی دفاع کیلئے کچھ کہنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ اسپیکر نے انتہائی سخت گیر لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ میں پورے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ آپ سے ایک خیر خواہ کی حیثیت سے آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اس قسم کے اہانت آمیز ریمارکس نہ کیجئے ۔ یہ محض کسی انفرادی رکن کی ہی نہیں بلکہ سارے ایوان کی توہین ہے ‘‘ ۔ اس مسئلہ پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر پر تلگودیشم وزراء نے بھی سخت تنقید کی جس کے جواب میں جگن نے اپنی بے قصوری ظاہر کرتے ہوئے ایک ریمارک کیا جو دراصل اسپیکر کی برہمی کا سبب بن گیا ۔ جگن نے کہا کہ ’’ وہ ( تلگودیشم ) مجھے قاتل کہتے ہیں اور ردعمل کے طور پر میں صرف چند مخصوص ارکان کے بارے میں ایک لفظ کہا ہوں اور وہ اس پر واویلا مچا رہے ہیں‘‘ ۔ اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں چند ارکان کا سوال نہیں ہے بلکہ سارے ایوان کی بات ہے ۔ آپ کے ان الفاظ سے دستبرداری اختیار کرنا ہوگا جو غیر پارلیمانی ہے ۔