غیر ملکی مسافرین عراق چھوڑنے بے چین ‘ ائرپورٹ پر ہجوم

دارالحکومت بغداد میں حالات انتہائی ابتر ۔ عراق سے واپس ہوئے زائرین کا اظہار خیال
حیدرآباد ۔ /20 جون (سیاست نیوز) عراق میں حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں ۔ 4 بجے سہ پہر سے ہی بازار بالکلیہ طور پر بند ہونے لگتے ہیں ۔ عراق کے صدر مقام بغداد میں بھی گولیوں کی گھن گرج اور دھماکوں کی آوازیں معمول بنتی جارہی ہیں ۔ ان حالات میں عراقی افواج و حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو ہتھیار سے لیس کرنے کے فیصلے کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔ بغداد سے واپس ہوئے 50 زائرین کے ایک قافلے میں شامل افراد نے ان حالات کو بتاتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں ان کی واپسی ہوئی ہے وہ انتہائی ابتر تھے ۔ جناب منیر قریشی جو کہ 50 زائرین پر مشتمل قافلے کے ہمراہ عراق روانہ ہوئے تھے کل صبح کی اولین ساعتوں میں حیدرآباد واپس ہوئے ۔ انہوں نے بتایا کہ بغداد ایرپورٹ عراق چھوڑنے والے مسافرین سے کھچاکھچ بھرا ہوا ہے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافرین اپنے ممالک کو واپس ہونے کیلئے بے چین ہیں ۔ بغداد کے شہری علاقوں میں عوام ہاتھوں میں ہتھیار لئے ہوئے عسکری مسلح گروپوں کا مقابلہ کرنے تیار نظر آرہے ہیں اور افواج ان کی حوصلہ افزائی میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اطراف و اکناف کے علاقوں بالخصوص نواحی علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے قافلے کا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت ان کا قافلہ بارگاہ حضرت جنید بغدادیؒ کی زیارت کیلئے داخل ہورہا تھا اسی وقت عقب میں زور دار دھماکہ ہوا جس میں 38 لوگوں کی موت کی اطلاع موصول ہوئی ۔ قافلہ میں شامل افراد نے مزید بتایا کہ حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں اور لوگ عراق چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف کوچ کرنے میں عافیت محسوس کررہے ہیں ۔ اس قافلہ کے ساتھ حیدرآباد ایرپورٹ پر 4 عراقی خاندان بچوں سمیت اترے ہیں جن کے متعلق قافلے کے لوگ کچھ بتانے سے قاصر ہیں لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ عراقی عوام عراق چھوڑ کر محفوظ مقامات کو منتقل ہونے لگے ہیں ۔ عراق سے واپس ہوئے حیدرآبادی قافلے میں جملہ 50 افراد شامل تھے جن میں 22 خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں ۔ جناب منیر قریشی نے بتایا کہ بغداد کی بیشتر سڑکوں پر عموماً افواج تعینات ہوتی ہے لیکن حالیہ دنوں میں پیدا شدہ حالات کے دوران نہ صرف اہم سڑکوں بلکہ گلی کوچوں میں بھی افواج تعینات کی جاچکی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بغداد میں ان کی ملاقات 5 غیر مسلم افراد سے ہوئی جن کا تعلق نظام آباد سے تھا اور یہ نوجوان مزدوری کیلئے بغداد کا رخ کئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں متعین ہندوستانی سفیر کے علاوہ فرسٹ سکریٹری و دیگر عہدیدار ہندوستانی باشندوں سے مختلف ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے عراق چھوڑنے کی اپیل کررہے ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کے قافلے کی واپسی کے وقت ایک مقام پر عراقی افواج نے مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے انہیں ایرپورٹ تک پہونچایا ۔