قانون سازی کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ
نئی دہلی 13 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ مقننہ کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ کسی قانون میں ایک مقررہ وقت میں ترمیم کی جائے ۔ عدالت نے مرکز کو آٹھ ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ غیر مقیم ہندوستانیوں کو پوسٹل بیالٹس کے ذریعہ رائے دہی کے حق دینے سے متعلق قانون میں تبدیلیاں عمل میں لائے ۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ملک میں ہجرت کرنے والوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ کمیشن نے قبل ازیں تاہم غیر مقیم ہندوستانیوں کو رائے دہی کا حق دینے کی حمایت کی تھی ۔ الیکشن کمیشن نے عدالت میں اپنا حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ قانون عوامی نمائندگی میں یہ گنجائش ہے کہ کوئی شخص جہاں کہیں وہ عارضی طور پر مقیم ہوتا ہے اپنا نام فہرست رائے دہندگان میں اندراج کرواسکتا ہے تاہم کسی شخص کے مختلف مقام کو ہجرت کرجانے اور پھر اپنے آبائی مقام پر ہی اپنا نام فہرست میں اندراج کروانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس مسئلہ پر سماعت کے دوران آج عدالت میں اڈیشنل سالیسیٹر جنرل پی ایل نرسمہا نے مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے غیر مقیم ہندوستانیوں کو رائے دہی کا حق دینے سے متعلق قوانین میں تبدیلی کیلئے مزید مہلت کی درخواست کی اور کہا کہ اس میں کچھ ترامیم کی ضرورت ہے اور وزارت قانون کی جانب سے الیکشن کمیشن کی رائے حاصل کرنے کے بعد اس سلسلہ میں کام کیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس ارون مشرا پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ ہم اڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے بیان پر یقین کرتے ہیں اور ہم مقدننہ سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کام ایک مقررہ وقت میں کیا جائے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر اس میں کچھ مشکل ہو تو مرکز دوبارہ عدالت سے رجوع ہوسکتا ہے ۔ سینئر وکیل دشئیت داوے نے ایک درخواست گذار کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے یہ استدعا کی کہ متعلقہ قانون میں جلد ترمیم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا میں 70 فیصد افراد غیر مقیم ہندوستانی ہیں اور انہیں یہ حق دیا جانا چاہئے کیونکہ انہوں نے ملک کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔ عدالت کی جانب سے غیر مقیم ہندوستانیوں کو حق رائے دہی دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی جا رہی ہے ۔ یہ مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی درخواستیں ہیں مرکز نے عدالت سے کہا تھا کہ اس نے پوسٹل بیالٹ سے غیر مقیم ہندوستانیوں کو حق رائے دہی دینے الیکشن کمیشن کی سفارش قبول کرلی ہے اور اس سلسلہ میں قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔