غیر مشروط تلنگانہ کا مطالبہ ، بند جزوی کامیاب

حیدرآباد۔11فبروری(سیاست نیوز) غیر مشروط تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے مطالبہ پرتلنگانہ حامی طلبہ تنظیموں کی جانب سے معلنہ بند کا شہر حیدرآباد میںجزوی اثر دیکھائی دیا۔ ایک سو بیس سے زائد تلنگانہ حامی طلبہ تنظیموں نے نئی ریاست کے قیام کے بعد مشترکہ تعلیمی نظام کی برقراری کے خلاف اس بند کا اعلان کیا تھا جس کی تائید وحمایت میںتلنگانہ حامی انقلابی تنظیموں نے بھی حصہ لیا جن میں تلنگانہ پرجافرنٹ‘ تلنگانہ ویمنس جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ تلنگانہ رائٹرس فورم‘ تلنگانہ حامی ملازمین‘ ٹیچرس ‘ لکچررس کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔ حیدرآباد اور سکندرآباد کے بیشتر تعلیمی اداروں نے بند کی تائید میںرضاکارانہ طو ر پراسکول اور کالجس کو بند رکھا اور دونوں شہروں کے بیشتر پٹرول پمپس بھی بند تھے۔عثمانیہ یونیورسٹی کی این سی سی گیٹ پر نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات بھی کیا گیاتھا جو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کرسکے نیم فوجی دستوں کی بھاری جمعیت کے دوران ایک درجن سے زائد تلنگانہ حامی طلبہ تنظیموں نے چیف منسٹر کرن کماریڈی کی مخالف تلنگانہ سرگرمیوں کے خلاف وزیراعلی کا علامتی پتلا نذرآتش کیا۔تلنگانہ ویدیارتی سنگھ کے کارکن جس کی قیادت کے سرینواس کررہے تھے نے مخالف سیما آندھرا حکومت نعرے لگاتے ہوئے چیف منسٹر کی فوری برطرفی کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔

تلنگانہ حامی طلبہ نے تلنگانہ میں دوریاستوں کے مشترکہ تعلیمی نظام کو علاقہ تلنگانہ طلبہ کے لئے نقصاندہ قراردیا اور کہاکہ مرکزی حکومت نے سیما آندھرا قائدین کے خانگی تعلیمی اداروں کی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے دوریاستوں کے مشترکہ تعلیمی نظام کا فیصلہ لیا ہے۔ طلبہ نے شہر حیدرآباد پر گورنرکے کنٹرول‘ دس سالوں تک حیدرآباد کو مشترکہ صدر مقام قائم رکھنے کے فیصلے کو واپس لینے کا بھی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیااور کہاکہ غیر مشروط تلنگانہ کے لئے ایک ہزارسے زائد طلبہ نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر تلنگانہ تحریک کو پروان چڑھایا ہے مگر مرکزی حکومت تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے متعلق اپنے وعدے کو پورا کرنے میںسیما آندھرا قائدین اورسرمائے داروں کے مفادات کو بھی شامل کررہی ہے۔طلبہ نے غیر مشروط تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے جاری اپنے احتجاج میں شدت پید ا کرنے کا بھی اعلان کیا او رکہاکہ بناء کسی شرط کے تلنگانہ ریاست کی تشکیل ہی علاقہ تلنگانہ کے ساتھ جاری 60سالہ ناانصافیوں کا خاتمہ ہوگا۔ مخالف تلنگانہ سرگرمیوں میں شامل قائدین کے خلاف نعرے بازی کررہے طلبہ نے علیحدہ تلنگانہ کے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی قائدین کے قومی قائدین کی متضاد بیان بازیوں کو بھی اپنی شدید کا تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ پولاورم پراجکٹ کے نام پر سیما آندھرا علاقہ سے بی جے پی قائدین کا ہمدردانہ بیان تلنگانہ کے متعلق بی جے پی کی سنجیدگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اے ائی ایس ایف کے ریاستی صدر اسٹالن‘ ٹی وی وی قائد آزاد‘ دیاکر شنکر نائک‘ شیوا گوڑ‘ ٹی آرایس وی قائد سید خلیل‘ سری ناتھ چاری ‘ نارائنہ اور ایم روی نے پولیس کے بھاری بندوبست کے درمیان عثمانیہ یونیورسٹی کی این سی سی گیٹ پر سیما آندھرا حکمرانوں اور قائدین کے خلاف جم کے نعرے بازی لگائی۔