ہونہار طلباء لاکھوں روپئے فیس کی ادائیگی سے قاصر ،سلمان اور وقار کے والد ڈرائیور ، نذیر کے ابا الیکٹریشن اور عرشیہ کے والد کی کرانہ کی دکان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( محمد ریاض احمد) : ہاں سر … میں امریکہ میں ایم ایس کرتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت کروں گا گھر کے حالات سدھارنا ماں باپ بھائی بہنوں کے لیے ایک خوشحال زندگی کا ذریعہ بننا میری خواہش ہے اس لیے کہ ہمارے ماں باپ نے کافی مصیبتیں برداشت کرتے ہوئے ہماری پرورش کی ہے اگر وہ چاہتے تو ہمیں بچہ مزدوری کروا کر کچھ راحت حاصل کرسکتے تھے لیکن ان لوگوں نے ہماری تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ اسکول میں شریک کرایا کالج کی فیس ادا کی اور اس قابل بنایا کہ مجھے امریکی یونیورسٹی میں ایم ایس میں داخلہ مل گیا ہے ۔ یہ خیالات 22 سالہ سید سلمان کے ہیں ۔ پنج بھائی ضیاگوڑہ کے رہنے والے سید سلمان نے الحسیب انجینئرنگ کالج سے بی ٹیک مکمل کیا ہے اور انہیں کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس کے لیے نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں داخلہ ملا ہے ۔ اس لڑکے کو پانچ برسوں کے لیے امریکہ کا F1 ویزا بھی حاصل ہوگیا ہے ۔ سید سلمان کسی خوشحال دولت مند خاندان سے تعلق نہیں رکھتے وہ دسویں جماعت تک تلگو میڈیم اور پھر انٹر میڈیٹ میں انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اس ہونہار طالب علم کے والد جناب عبدالغفار ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ۔ جب کہ ماں ساجدہ بیگم خانہ دار خاتون ہیں ۔ عبدالغفار اپنی محدود آمدنی کے باوجود اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ سید سلمان کی دو بہنیں اور 3 بھائی ہیں چھوٹے بھائی عمران انٹر میڈیٹ سال دوم میں زیر تعلیم ہیں ۔ سید سمیر بھی انٹر میڈیٹ کررہے ہیں ۔ سید صفان ساتویں جماعت کا طالب علم ہے ۔ اس ہونہار طالب علم نے ایس ایس سی میں 83 فیصد انٹر میڈیٹ میں 86 فیصد اور بی ٹیک میں 75 فیصد نمبرات حاصل کرتے ہوئے دنیا کو بتادیا ہے کہ غربت کسی بھی طرح تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنتے ، اگر محنت کی جائے تو کامیابی خود آپ کے قدم چومتی ہے ۔ غربت کا بڑی بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے زیور تعلیم سے خود کو آراستہ کرنے والے 22 سالہ نوجوان محمد وقار احمد ولد جناب محمد افتخار احمد کی کہانی بھی سید سلمان سے ملتی جلتی ہے ۔ رین بازار چمن کے رہنے والے اس ہونہار طالب علم کے والد بھی پیشہ سے ڈرائیور ہیں اور محمد وقار احمد نے ایس ایس سی وکاس اسکول سے انٹر میڈیٹ نارائنا جونیر کالج چمپا پیٹ اور وشوا بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس نادر گل سے بی ٹیک کیا ۔ انہوںنے ایس ایس سی میں 83 فیصد انٹر میڈیٹ میں 85 فیصد اور بی ٹیک میں 65 فیصد نمبرات حاصل کرتے ہوئے اپنے والدین کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی ۔ محمد وقار احمدکو بھی برائٹلی یونیورسٹی ایلنوائے امریکہ میں داخلہ مل گیا ہے اور پانچ سال کا F1 ویزا بھی حاصل ہوا ہے ۔ وقار کے والد غربت میں اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے پر وقار زندگی گذار رہے ہیں ۔ وقار کی تین بہنوں میں سے دو بی فارمیسی کررہی ہیں اور ایک ایمسیٹ کی تیاری میں مصروف ہے ۔ سلمان اور وقارکی طرح کالی قبر چادر گھاٹ کے رہنے والے ہونہار طالب علم سید نذیر الدین نے بھی بی ٹیک کیا ہے ۔ ایس ایس سی اور انٹر میڈیٹ مدینہ پبلک اسکول سے کرنے والے اس طالب علم نے ایان کالج معین آباد سے بی ٹیک کیا ہے ۔ ان کے والد جناب سید احمد حسین الکٹریشن ہیں اور والدہ خاتون خانہ ہیں ۔ سید نذیر کی بہن اور بھائی بھی تعلیم یافتہ ہیں ۔ بہن بی بی بی اے کیا ہے اس طالب علم کو آسٹریلیا کی فیڈریشن یونیورسٹی سڈنی میں داخلہ مل گیا ہے ۔ سلمان وقار اور نذیر کے خاندانی حالات سے پتہ چلتا ہے کہ ان طلباء نے غریبی کے باوجود تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ مستقبل میں کچھ بننے کے خواب دیکھتے ہوئے اپنے محنت کش والدین کے خوابوں کو سچ کر دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ ایسی ہی کوشش مادنا پیٹ میں کرانہ کی ایک چھوٹی سی دکان چلانے والے جناب محمد یوسف خاں کی ہونہار دختر عرشیہ سلطانہ کررہی ہیں ۔ ایس ایس سی میں 72 فیصد اور انٹر میڈیٹ میں 78 فیصد نمبرات حاصل کرنے والی عرشیہ سلطانہ فی الوقت مغل انجینئرنگ کالج سے پٹرولیم انجینئرنگ کررہی ہیں اور بیرون ملک کی کسی باوقار یونیورسٹی سے ایم ایس کرنے کا عزم رکھتی ہیں ۔ عرشیہ کی والدہ محترمہ سعدیہ سلطانہ نے ایس ایس سی تک تعلیم حاصل کی لیکن وہ عرشیہ کے ساتھ ساتھ ایس ایس سی میں زیر تعلیم اپنی ایک اور لڑکی اور 7 ویں جماعت میں زیر تعلیم لڑکے کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہیں ۔ وہ چاہتی ہیں کہ ایس سی ایس ٹیز کی طرح مسلم طلباء و طالبات کو بیرونی ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے تعلیمی امداد اور قرض فراہم کیا جائے ۔ قارئین یوں تو ہماری ملت کے نونہالوں میں حصول علم کا شوق دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے تاہم جن چار ہونہار طلبہ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ ان میں سے تین کو امریکی اور آسٹریلیائی یونیورسٹی میں داخلے تو مل چکے ہیں لیکن 6 تا 10 لاکھ فیس وہ کہاں سے لائیں گے ۔ اس کے لیے ایک طریقہ یہ ہے کہ حکومت جس طرح ایس ٹی ، ایس سی طلبہ کو امبیڈکر اورسیز ودیاندھی اسکیم کے تحت 10 تا 20 لاکھ روپئے تعلیمی امداد دے رہی ہے اسی طرح اقلیتی طلبہ کو بھی تعلیمی امداد فراہم کرے ۔ تب ہی سلمان ، وقار ، نذیر اور عرشیہ جیسے طلبہ اپنے خوابوں کو سچ کر کے دکھا سکتے ہیں ۔۔ mriyaz2002@yahoo.com