حیدرآباد۔/10ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے حیدرآباد اور سائبرآباد پولیس کمشنریٹ حدود میں غیر قانونی ٹیکسی؍ کیابس سرویسیس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ دہلی میں اوبر کیاب ڈرائیور نے مبینہ طور پر خاتون کی عصمت ریزی کی اور اس واقعہ پر ملک بھر میں عوامی برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے بھی محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے مقصد سے بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ حیدرآباد جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنر ٹی رگھوناتھ نے بتایا کہ کیابس؍ ٹیکسی کو دیئے جانے والے لائسنس؍ پرمٹ سے متعلق دستاویزات کی تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ اگر کوئی قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ خدمات مقررہ قواعد کے مطابق انجام دی جارہی ہیں یا نہیں اور ان کے پاس ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کا رجسٹریشن ہے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ تاحال 35مقدمات درج کئے گئے ہیں اور 7گاڑیوں کو ضبط کرلیا گیا ہے۔ دہلی واقعہ کے پیش نظر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے تمام انفورسمنٹ اسٹاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ خانگی آپریٹرس بشمول اوبر کی غیر مجاز سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کیابس؍ ٹیکسیز اپنی گاڑیوں پر چمکدار پٹی لگارہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 500سے زائد ٹراویل کمپنیوں نے حیدرآباد ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں اندراج کروایا ہے اور وہ حیدرآباد میں 25ہزار کیابس؍ ٹیکسیز اور پڑوسی رنگاریڈی میں 20ہزار گاڑیاں چلارہی ہیں۔ ٹی رگھوناتھ نے کہا کہ نہ صرف خانگی کیابس و ٹیکسیز بلکہ دیگر ٹرانسپورٹ گاڑیوں بشمول بسیس اور آٹوز کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے گا۔