غلط اور یکطرفہ تقسیم سے آندھرا پردیش کو بھاری نقصانات

کانگریس نے تقسیم کے ذریعہ ممکنہ حد تک مسائل اور تنازعات پیدا کی ہے :چندرا بابونائیڈو

لوگ مجھ پر شک کررہے ہیں: چندرا بابو نائیڈو
چندرا بابونائیڈو نے کہا کہ ’’(آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد )تین ماہ گذر چکے ہیں (مرکز کی طرف سے مقرر کردہ ماہرین کی کمیٹی کوئی )رپورٹ نہیں دی ہے ۔ اب عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ (چندرا بابو) کیوں نہیں کہہ رہے ہیں کہ کس شہر کو دارالحکومت بنایا جائے گا ؟ وہ (چندرا بابو)حیدرآباد میں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ وہ (نئی ریاست آندھراپردیش کو) کیوں نہیں آرہے ہیں ؟ ان شبہات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ماہرین کی کمیٹی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے جس کو (اختتام اگست تک وقت دیا گیا) چندرا بابونائیڈو نے کہا کہ مالیہ اور وسائل کی تقسیم سے بھی کئی مسائل اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس نے اس کیلئے جس حد تک بھی ممکن ہوسکا مسائل اور تنازعات پیدا کی ہے۔

حیدرآباد 17 اگست (پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آج یہاں الزام عائد کیا کہ سابق یو پی اے حکومت کی جانب سے آندھرا پردیش کی غلط اور یکطرفہ تقسیم کے سبب مابعد تقسیم باقی بچ جانے والی ریاست آندھرا پردیش کو مالیہ اور وسائل کی تقسیم کے معاملہ میں سنگین نقصانات پہونچے ہیں ۔ نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ انہوں ( یو پی اے حکومت) نے کسی سے کوئی مشاورت نہیں کی اور یکطرفہ انداز میں فیصلہ کیا ۔ آندھرا پردیش کی تنظیم جدید سے ریاست (باقی بچ جانے والی آندھرا پردیش ) پر مرتب اثرات کے زیر عنوان وہائٹ پیپرس جاری کرتے ہوئے چندرا بابونائیڈو نے کہا کہ ’’(آندھرا پردیش تنظیم جدید کے قانون کا بغور مطالعہ اور تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے ساتھ غیر متضاد اور نامناسب فیصلہ کا یہ (قانون )کلیدی ذریعہ ہے جس سے مابعد تقسیم باقی بچ جانے والی ریاست آندھرا پردیش کو سب سے زیادہ نقصان پہونچاہے ۔ ‘‘۔ وہائٹ پیپرس میں کہا گیا ہے کہ اس (قانون) سے آندھرا پردیش قلیل مدتی اور اوسط مدتی سنگین منفی اثرات کا سلسلہ جاری رہے گا‘‘۔ملک کی 29 ویں ریاست تلنگانہ کے قیام کیلئے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد باقی بچ جانے والی نئی ریاست آندھرا پردیش کے پہلے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے قبل ازیں آبپاشی اور مالیہ پر مابعد تقسیم اثرات کے بارے میں وہائٹ پیپرس جاری کرچکے ہیں ۔ چندرا بابونائیڈو نے کہا کہ غیر منقسم آندھرا پردیش میں انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر ’’برینڈ حیدرآباد‘‘ کو فروغ دینے بے پناہ مساعی کی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست آندھرا پردیش میں کروڑ روپئے درکار ہوں گے ۔ چندرا بابو نے کہا کہ منقسم آندھرا پردیش کیلئے یو پی اے حکومت نے نیا دارالحکومت بھی تلاش نہیں کی ۔ انہوں نے کہا ’’کہیں بھی ایسا نہیں ہوا ہوگا۔ کہیں بھی کسی دارالحکومت شہر کے تعین کے بغیر تقسیم نہیں کی گئی ‘‘۔