غلام نبی آزاد کو تلنگانہ کی ذمہ داری، ہائی کمان کا عنقریب فیصلہ

پارٹی کے دوبارہ اقتدار کے لیے سینئر قائد کی خدمات ضروری، قائدین کی متحدہ بس یاترا کی تجویز
حیدرآباد ۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے دوبارہ اقتدار کو یقینی بنانے کے لیے کانگریس اعلیٰ کمان سینئر قائد غلام نبی آزاد کو آندھراپردیش کا انچارج مقرر کرنے پر غور کررہا ہے۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین بھی غلام نبی آزاد کو انتخابات سے قبل تلنگانہ کے امور کی ذمہ داری دیے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر قائدین نے پارٹی صدر راہول گاندھی سے ملاقات کے دوران اس جانب توجہ مبذول کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ غلام نبی آزاد سابق میں متحدہ آندھراپردیش میں پارٹی انچارج رہے اور ان کی قیادت میں 2004ء میں پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا۔ غلام نبی آزاد تلنگانہ کی سیاسی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ ٹی آر ایس سے مقابلہ کے لیے بہتر حکمت عملی تیار کرسکتے ہیں۔ ٹی آر ایس اور کانگریس میں مفاہمت کے سلسلہ میں غلام نبی آزاد نے اہم رول ادا کیا تھا۔ لہٰذا ریاست کی سیاسی صورتحال سے بہتر طور پر واقف شخصیت کو انچارج مقرر کرنے سے پارٹی کو آئندہ انتخابات میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے موجودہ انچارج جنرل سکریٹری کنتیا اور دیگر تین سکریٹریز کو تلنگانہ کی سیاسی صورتحال سمجھنے کے لیے وقت لگ سکتا ہے۔ ویسے بھی موجودہ جنرل سکریٹری ریاست میں پارٹی کے استحکام اور قائدین کو متحد رکھنے میں خاطرخواہ رول ادا نہیں کرسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے وابستہ ارکان مقننہ سابق وزراء اور سابق ارکان پارلیمنٹ نے راہول گاندھی سے غلام نبی آزاد کے حق میں نمائندگی کی۔ پارٹی کے قائدین نئی دہلی روانگی کے موقع پر غلام نبی آزاد سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں تلنگانہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی درخواست کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے مناسب وقت پر انہیں تلنگانہ کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ انتخابات سے تین یا چار ماہ قبل انچارج جنرل سکریٹری کو تبدیل کیا جائے گا۔ ویسے بھی ذمہ داری کے بغیر غلام نبی آزاد تلنگانہ کے قائدین سے ربط میں ہیں اور انہیں پارٹی کے استحکام کے سلسلہ میں مناسب مشورے دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ غلام نبی آزاد 2004ء کی طرح تلنگانہ قائدین کی متحدہ بس یاترا کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ عوام میں یہ پیام جائے کہ کانگریس قائدین متحد ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے سلسلہ میں سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی کے رول کے بارے میں عوام کو واقف کرانے کا مشورہ دیا۔ کانگریس پارٹی کی تائید کے بغیر تلنگانہ کی تشکیل ممکن نہیں تھی لیکن ٹی آر ایس کے قائدین اس حقیقت سے انکار کرتے ہوئے اسے کے سی آر کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ کانگریس کیڈر کو یقین ہے کہ غلام نبی آزاد کی آمد کی صورت میں تلنگانہ میں پارٹی کے اچھے دنوں کا آغاز ہوگا۔ وہ ٹی آر ایس پارٹی سے بخوبی انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرناٹک میں تین مرتبہ غلام نبی آزاد کی قیادت میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا۔ حالیہ انتخابات میں نتائج کے بعد جنتادل سکیولر سے مفاہمت میں غلام نبی آزاد کا اہم رول رہا ہے۔