غزہ کی تعمیر نو کیلئے 5.4 بلین ڈالرس کی رقم جمع

قاہرہ ۔ /12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ میں تباہ غزہ پٹی کی تعمیر نو کیلئے فنڈس اکٹھا کرنے کے مقصد سے قاہرہ میں عطیہ دہندگان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 5.4 بلین ڈالرس کی رقم بطور عطیہ دینے کا اعلان کیا گیا ۔ مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن نے وزیر خارجہ ناروے بورج برنڈے کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے ۔ یہ رقم صدر فلسطین محمود عباس کی جانب سے مطلوبہ رقم کے مقابلے میں کافی کم ہے ۔ قطر نے ایک بلین ڈالر کی رقم بطور عطیہ دینے کا اعلان کیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے 200 ملین ڈالرس عطیہ کا وعدہ کیا ہے ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے 212 ملین ، یوروپی یونین 568 ملین اور ترکی نے 200 ملین ڈالر عطیہ کا اعلان کیا ہے ۔ قطر نے پھر ایک بار اپنی دولت کے ذریعہ علاقہ میں اہم رول ادا کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور دیگر کا یہ الزام ہے کہ قطر اپنی دولت کے ذریعہ علاقائی استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ وہ دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت اور اسلامی گروپس جیسے غزہ میں حماس اور اخوان المسلمین کی اعانت کررہا ہے ۔ قطر کے وزیر خارجہ خالد بن محمد العطیہ نے ملک کی امداد کے ساتھ ساتھ غزہ کی تباہی پر بین الاقوامی ممالک کی خاموشی کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو جہاں مالی مدد کی ضرورت ہے وہیں انہیں بین الاقوامی برادری سے مزید سیاسی تائید کی بھی ضرورت ہے ۔ ہندوستان نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے 4 ملین ڈالر کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وزارت امور خارجہ (مغربی ایشیاء اور شمالی آفریقہ) جوائنٹ سکریٹری سندیپ کمار نے اس کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کی یکسوئی کا واحد راستہ مذاکرات ہیں جس کے ذریعہ مستقل امن یقینی ہوسکتا ہے ۔

غزہ کی امداد کیلئے بات چیت، کیری کی قاہرہ میں آمد
قاہرہ۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری آج علی الصبح قاہرہ پہنچ گئے تاکہ اعلیٰ سطحی کانفرنس میں جو جنگ سے تباہ غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے اربوں ڈالر امداد جمع کرنے کے مقصد سے منعقد کی جارہی ہے۔ جان کیری کی آمد اس مقصد کو امریکی حمایت حاصل ہونے کی علامت ہے۔ اعلیٰ سطحی کانفرنس میں تقریباً 50 ممالک شرکت کریں گے۔ فلسطینیوں کو اُمید ہے کہ عالم گیر سطح سے 4 ارب امریکی ڈالر امداد کے تیقنات حاصل ہوں گے، حالانکہ عطیہ دہندہ ممالک اندیشہ رکھتے ہیں کہ مکمل امن کا معاہدہ اسرائیل کے ساتھ ممکن ہے کہ طئے نہ ہوسکیں اور ان کے عطئے ضائع ہوجائیں۔ محکمہ خارجہ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے جان کیری کی واشنگٹن سے روانگی سے قبل کہا کہ اس کے خیال میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ سنجیدہ سوالات عطیہ دہندہ ممالک کی کثیر تعداد اس کانفرنس میں اُٹھائے گی۔ وہ چاہتے ہیں کہ امداد دینے سے پہلے تشدد کا دور اس علاقہ میں ختم ہوجائے۔ عطیہ دہندہ ممالک کی اس رائے کی عکاسی اس بیان سے ہوتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ہم اپنی رقم ضائع نہیں کررہے ہیں اور وہ ایک یا دو سال میں اسی مقصد کے لئے استعمال کی جائے گی جس کے لئے عطیہ دیا جارہا ہے۔ جان کیری کانفرنس کے دوران علیحدہ طور پر سنجیدہ باہمی ملاقاتیں کریں گے جو امکان ہے کہ امریکہ کی ان کوششوں پر مرکوز ہوں گی کہ ایک مخلوط اتحاد اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف قائم کیا جائے جنھوں نے عراق اور شام کی بیشتر سرزمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ عطیہ دہندگان کی کانفرنس غزہ پٹی کے فلسطینیوں کی امداد کے مقصد سے طلب کی گئی ہے جو اسرائیل کے ساتھ 50 روزہ جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور اس کی تعمیر نو ضروری ہے۔ کئی فلسطینی اسرائیل کی اندھادھند بمباری کی وجہ سے ناقابل بیان مصائب کا شکار ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے انسانی بنیادوں پر امداد کے منتظر ہیں۔

غزہ کی تعمیر نو کیلئے 20کروڑ ڈالرامریکی امداد
اسرائیلی جنگ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے 4ارب ڈالر کی ضرورت
واشنگٹن۔12اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) غزہ میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کے بعد امریکہ نے امداد دینے کے اعلان کیا ہے ۔ غزہ کی تعمیر نو کیلئے 20کروڑ ڈالرس امداد دی جائے گی ۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سب سے زیادہ تباہی آئی ہے جہاں تعمیر نو کیلئے 4ارب ڈالرس کی ضرورت ہے ۔ فلسطینی حکام نے قاہرہ میں عالمی امدادی برادری کی کانفرنس میں اپیل کی ہے کہ اسے حالیہ جنگ سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے 4ارب ڈالر درکار ہیں ۔ اس جنگ کے دوران غزہ کے کم از کم ایک لاکھ رہائشی بے گھر ہوگئے تھے اور علاقے کی زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور دیگر سہولیات تباہ ہوگئی تھیں ۔ 26 اگست کو ایک امن معاہدے کے نتیجہ میں ختم ہونے والی سات ہفتوں کی اس جنگ میں 2,100 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی ۔ دوسری جانب اسرائیل کے 66فوجی اور سات عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو قاہرہ کانفرنس کے موقع پر کہا کہ جوں جوں موسم سرما قریب آرہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی فوری مدد کی جائے ۔ غزہ کے لوگوں کو ہماری فوری مدد کی ضرورت ہے ‘ کل نہیں‘اگلے ہفتہ نہیں بلکہ غزہ کو یہ مدد ابھی چاہیئے ۔