تل ابیب،16اگست(سیاست ڈاٹ کام) سرائیل کی جانب سے فلسطین کی سرحد پر کشیدگی کے باعث ایک ماہ سے زائد عرصہ کے لیے بند کیا جانے والا سرحدی راستہ کھول دیا گیا جس کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ میں اشیا کی نقل و حمل کا آغاز ہوگیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مصر اور اقوام متحدہ کی ثالثی کے باعث ابتدائی معاملات پر سمجھوتہ ہوگیا ہے جس کے بعد گزشتہ کئی دنوں سے جاری کشیدگی میں کمی دیکھنے میں آئی اور راستے کو کھول دیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسرائیلی حکام نے خبردار کیا کہ حماس سے حقیقی سمجھوتہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ 2 اسرائیلی فوجیوں کی نعشیں نہ واپس کردے جو اسرائیل کا اہم ترین معاملہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ محصور غزہ کی پٹی میں انسانی بحران اور فوجیوں کی واپسی پر اسی وقت گفتگو ہوسکتی ہے جب موجودہ صورتحال برقرار رہے کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اسرائیل دوبارہ جارحانہ کارروائیاں کرے گا۔واضح رہے کہ یہ راستہ غزہ اور اس کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان 2008 سے اب تک تین جنگیں لڑی جاچکی ہیں، اس سال بھی مارچ کے اختتام پر احتجاج کے نئے سلسلے سے دونوں کے تعلقات میں شدید اختلاف کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ تازہ ترین واقعہ میں پچھلے ہفتے جمعرات کو اسرائیل نے غزہ کی طرف سے داغے جانیوالے راکٹوں کے جواب میں فوجی کارروائی کی تھی۔