غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں 12 فلسطینی شہید

یروشلم ۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج کے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں جارحانہ فضائی حملوں میں 12 فلسطینی شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع نے بتایا ہیکہ منگل کو غزہ شہر میں اسرائیلی طیارے نے حملے میں ایک کار کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار چار فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ پٹی کے جنوبی قصبے خان یونس میں اسرائیلی طیارے نے ایک مکان کو بمباری کرکے تباہ کردیا۔ مکان میں موجود 7 افراد شہید ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں غزہ کی ایمرجنسی سروسز نے وسطی غزہ میں ایک مہاجرکیمپ کے نزدیک فضائی حملے میں اشرف یٰسین نامی ایک فلسطینی کی شہادت کی اطلاع دی تھی۔اس کے بارے میں بتایا گیا ہیکہ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کا رکن تھا۔ اسرائیلی فوج غزہ پٹی سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لئے یہ جارحانہ کارروائی کررہی ہے اور اس نے کہا ہے کہ یہ حماس کے خلاف ایک طویل المیعاد فوجی کارروائی بھی بن سکتی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی چڑھائی کی دھمکی بھی دی ہے اور اس میں حصہ لینے کے لئے 1500 ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف اس جارحیت کو’’آپریشن دفاعی کنارہ‘‘ کا نام دیا ہے

اور ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر حماس راکٹ حملے جاری رکھتی ہے تو اسرائیلی شہریوں کا طاقت سے دفاع کیا جائے گا اور اگر حماس سے اسرائیلی شہریوں کو خطرہ ہوتا ہے تو پھر وہ بھی محفوظ نہیں رہے گی۔صہیونی وزیردفاع موشے یعلون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم حماس کے خلاف جنگ کی تیاری کررہے ہیں اور یہ چند ایک روز میں ختم نہیں ہوگی‘‘۔ صہیونی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی تازہ بمباری کے آغاز کے بعد سے پوری غزہ پٹی سے منگل کو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں اور بمباری کا نشانہ بننے والی عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ رہائشی علاقوں سے ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجنے اور بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔اسرائیلی فوج نے پیر اور منگل کی درمیانی شب فلسطینی علاقے میں 50 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ’’بھونچال‘‘ برپا کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس نے جنوبی اسرائیل کی جانب 80 راکٹ فائر کئے ہیں جس کے بعد اسرائیل کے ساحلی شہر اشدود میں افراتفری کا عالم دیکھا گیا ہے اور سائرن بجنے کے بعد گاڑیوں میں سوار اسرائیلی تیزی سے رہائشی علاقوں کی جانب جارہے تھے۔ اسرائیل کے جنوبی قصبوں پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے گذشتہ تین روز میں تقریباً 200 راکٹ برسائے ہیں۔

دریں اثناء حماس کی جانب سے اسرائیل کو جنگ بندی کی پیشکش کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔حماس کے ایک قریبی ذریعہ نے بتایا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت نے اس جنگ بندی کے لئے یہ شرط عائد کی ہے کہ اسرائیل ہر طرح کی جارحیت کو بند کردے۔گذشتہ ماہ مغربی کنارے سے گرفتار کئے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کردے اور مصر کی ثالثی میں 2012ء میں طئے پائے جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری کرے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کے ردعمل میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے بلکہ صہیونی فوج نے حماس کا گھیرا مزید تنگ کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس کمزور ہوئی تو پھر سخت گیر گروپ زور پکڑیں گے اور وہ اسرائیل کے لئے حماس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فورسیس نے گذشتہ ماہ مغربی کنارے میں تین یہودی لڑکوں کے اغوا کے بعد جارحانہ مہم میں سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ان تینوں یہودی لڑکوں کی بعد میں نعشیں ملی تھی۔ اسرائیل نے حماس پر ان کے اغوا اور قتل کا الزام عائد کیا تھا اور اب صہیونی فوج ان لڑکوں کے قتل کے ردعمل ہی میں حماس کے خلاف یہ بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائی کررہی ہے۔