غزہ پر اسرائیل کے دوبارہ فضائی حملے

یروشلم ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے آج غزہ پٹی پر کئی فضائی حملے کئے ہیں کیونکہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ ان پرتشدد واقعات سے عارضی جنگ بندی اور قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ کے خاتمہ کیلئے مذاکرات خطرہ میں پڑ گئے ہیں۔ عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے 8 گھنٹے پہلے ہی پرتشدد واقعات کا آغاز ہوگیا۔ مصر نے اسرائیل اور فلسطین کو جنگ بندی میں 24 گھنٹے توسیع کی ترغیب دی تھی تاکہ مستقل جنگ بندی کی بات چیت کامیاب ہوسکے۔ حکومت اسرائیل کے ترجمان مارک ریگیف نے کہا کہ بیرشیبا کے ایک قبرستان پر ایک حملہ کیا گیا اور اس طرح جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ۔ اس نے یہ کہنے سے انکار کردیا کہ کیا اسرائیل نے بات چیت بند کردی ہے۔ تاہم کہا کہ اسرائیل صرف مکمل جنگ بندی کی صورت میں ہی بات چیت جاری رکھ سکتا ہے ۔

اسرائیلی فوج کے بموجب غزہ کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر تین راکٹ حملے کئے لیکن یہ راکٹ بیرشیبا کے قریب کھلے میدانوں میں گر پڑے۔ حماس پولیس کے بموجب اسرائیل نے کھلے علاقوں پر 7 فضائی حملے کئے ۔ چند ہی منٹ میں فضائی حملے کئے گئے جبکہ اسرائیل نے عسکریت پسندوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، فوری طور پر حملوں کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے اشارہ دیا کہ مزید راکٹ حملے کئے جائیں گے ، اگر وزیراعظم اسرائیل نیتن یاہو کو عقل نہ آئے اور وہ قاہرہ میں سیاسی زبان استعمال نہ کریں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم انہیں سمجھانے کا طریقہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ حکومت حماس 7 سالہ اسرائیل ۔ مصر ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو اپنے اسلحہ کا ذخیرہ تلف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ تمام حملے حماس پر دباؤ ڈالنے کی خاطر کئے جارہے ہیں۔ ہم اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ۔ مصر نے جو غزہ کیلئے عطیہ دہندگان کی کانفرنس کی صدارت کر رہا ہے، کہا تھا کہ قطعی امن معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں ہی وہ مدد حاصل کرسکیں گے۔ حماس نے کہا کہ وہ مصر اور فلسطینی اتھاریٹی دونوں کا دباؤ قبول نہیں کرے گی۔

فلسطین اور اسرائیل کے جنگ بندی میں
توسیع سے اتفاق کے بعد جھڑپیں
قبل ازیں فلسطین اور اسرائیل کے مذاکرات کاروں نے عارصی صلح میں 24 گھنٹے کی توسیع سے اتفاق کرلیا ہے تاکہ طویل مدتی جنگ بندی اور غزہ پٹی میں ایک ماہ طویل جنگ کے خاتمہ کا اہتمام کیا جائے جس میں 2000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ قاہرہ میں فلسطینی وفد کے سربراہ اعظم الاحمد نے کہا کہ جنگ بندی میں 24 گھنٹے توسیع کا فیصلہ موجودہ پانچ روزہ صلح کے اختتام سے ایک گھنٹہ قبل کیا گیا ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین کو صلح ختم ہونے سے قبل طویل مدتی جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کرنا ہے تاکہ ایک ماہ سے جاری خونریزی ختم کی جائے ۔ گزشتہ ہفتہ سے مصر ، اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا میزبان ہے جن کا مقصد 8 جولائی سے شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ ہے کیونکہ غزہ پٹی میں ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہوچکی ہے جن میں ز یادہ تر بے قصور شہری ہیں ۔