غزہ ؍یروشلم ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے 10 دن کے وقفہ کے بعد غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کردی ہے جس میں حماس کے فوجی لیڈر کی اہلیہ اور شیرخوار کے بشمول 11 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ قاہرہ میں جنگ بندی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر اندھادھند بمباری کی۔ اب تک تقریباً 3000 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس کے لیڈر محمد دیف کی اہلیہ اور لڑکا اس حملہ میں شہید ہوئے۔ اسرائیل کا کہنا ہیکہ غزہ سے کل تقریباً 50 راکٹ داغے تھے اور آج بھی 20 راکٹ تل ابیب پر گرائے گئے ہیں۔ ؎ فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی پر مستقل جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری بات چیت بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کردیئے ہیں۔ دونوں جانب سے جنگ بندی توڑنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہے، تاہم گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر بمباری میں ایک شیر خوار بچی سمیت تین افراد شہید ہو گئے۔ القدس سے ایک نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے کم سے کم 25 مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر متعدد راکٹ داغے گئے تھے جسے جنگ بندی توڑنے پر محمول کیا گیا اور تل ابیب نے مصر میں موجود اپنے مذاکرات کار واپس بلا لیے ہیں۔