اقوام متحدہ ۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چہارشنبہ کو 120 ممالک کی زبردست اور مضبوط اکثریت سے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی بربریت و درندگی کی وجہ سے 129 فلسطینیوں کی شہادت پر چراغ پا عرب ممالک کی حمایت یافتہ قرارداد پیش کی گئی جس میں اسرائیل کے فوجی طاقت کے زائد استعمال اور قطعی نامناسب اور ظالمانہ انداز میں فلسطینی شہریوں پر بے تحاشہ خودکار بندوقوں کا استعمال کی مذزت کی گئی۔ اس قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ غزہ پٹی میں فلسطینیوں کی حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔ یاد رہیکہ اواخر مارچ 2018ء میں غزہ پٹی پر پرامن فلسطینی احتجاجیوں پر اسرائیلی ظالم فوجیوں نے گولیاں برسائی تھیں، جس میں کم از کم 129 فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ کوئی بھی ظالم اسرائیلی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ یہ قرارداد الجیریا اور ترکی نے عرب اور مسلم ممالک کی حمایت کے ساتھ پیش کی جس میں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں 120 ممالک کی پرجوش تائید سے زبردست اکثریت سے یہ قرارداد منظور کی گئی۔ اس موقع پر 8 ممالک نے اپنے آپ کو اس سے روکے رکھا اور 45 ممالک غیرحاضر رہے۔ نکی ہیلی، امریکی سفیر نے جنرل اسمبلی میں اس قرارداد کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ ’’یکطرفہ‘‘ ہے اور عرب ممالک پر الزام لگایا کہ اپنے ملکوں میں عوام کو خوش کرنے کیلئے یہ حربہ اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’کچھ ممالک اور شخصیات کیلئے اسرائیل پر حملہ کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔