لکھنو۔14ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) آگرہ میں مبینہ طور پر جبری مذہبی تبدیلی تنازعہ کے پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندو تنظیموں پر غریب مسلمانوں کو راغب کرنے کیلئے تبدیلی مذہب مہم شروع کرنے کا الزام عائد کیا ۔ بورڈ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے جس کے نتیجہ میں مذہبی خطوط پر عوام کو تقسیم کیا جائے ۔ ساتھ ہی ساتھ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کو شکست دی جاسکتی ہے بشرطیکہ متمول مسلمان متحد ہوں اور اپنے بھائیوں کی مدد کرے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا نظام الدین نے کہا کہ آگرہ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ فرقہ پرست تنظیموں نے مسلمانوں کو مذہبی تبدیلی کیلئے اکسایا ہے اور اُن سے آدھار و راشن کارڈس کا وعدہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی اور دیگر ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی تبدیلی کی یہ مہم شروع کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خوشحال اور متمول مسلمان متحد ہوجائیں اور اپنے معاشی طور پر غریب بھائیوں کی مدد کریں تو مذہبی تبدیلی کی اس مہم میں ملوث فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔
تاہم وشواہندو پریشد کے ترجمان شرت شرما نے اُن کی تنظیم کی جانب سے جبری مذہبی تبدیلی کے الزامات کی تردید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذہبی تبدیلی پر امتناع کا مطالبہ کررہے ہیں ‘ یہ سماج کیلئے اچھی علامت نہیں ۔ مذہبی تبدیلی کو روکنے کیلئے قانون ہونا چاہیئے ۔ تاہم اگر کسی نے جبری طور پر مذہب تبدیل کیا تھا اب وہ اپنے مذہب میں واپس آنا چاہتا ہے تو اس کیلئے وی ایچ پی کس طرح ذمہ دار ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی مذہبی تبدیلی پر امتناع اور اس غرض سے قانون بنانے کا مطالبہ کرنا چاہیئے ۔ ایک ہندو تنظیم کی جانب سے 25ڈسمبر کو علیگڑھ میں بڑے پیمانے پر عیسائیوں اور مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرانے کی اطلاعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولانا نظام الدین نے کہا کہ حکومت کو اس تنظیم کے پس پردہ حقیقی ارادوں نوٹ لینا چاہیئے ۔
پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ مذہبی تبدیلی کی یہ مہم رائے دہندوں میں تفریق کی ایک کوشش ہے اور ریاست میں 2017ء اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ماحول کو مکدر کرنے کیلئے ایسا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی طاقتوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی یہ ضرورت ہے کہ خوش خوشحال مسلمان اپنے غریب مسلم بھائیوں کی اعانت کرے تاکہ بعض تنظیموں کی مذہبی تبدیلی کی کوشش کو ناکام بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر مذہبی تبدیلی کے پروگرام کا اعلان خود کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے اور اس سے سختی سے نمٹا جانا چاہیئے ۔