حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد سے متعلق بعض اہم امور ( مسائل ) پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے 125 مربع گز غیر مجاز قبضہ کی ہوئی سرکاری اراضی کو غریب عوام کیلئے باقاعدہ بنانے اور 200 تا 300 مربع گز غیر مجاز قبضہ کی اراضی کو برائے نام قیمت وصول کرکے باقاعدہ بنانے کا حکومت کو مشورہ دیا ۔ علاوہ ازیں 500 مربع گز اراضی ناگزیر حالات میں مارکٹ قیمت کی اساس پر باقاعدہ بنانے کی تمام جماعتوں نے تجویز پیش کی اور اس سے زائد یعنی 500 گز سے زائد اراضی پر غیر مجاز قابضین سے ماباقی اراضی حاصل کرلینے اقدامات کا مشورہ دیا گیا ۔ آج چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں کل جماعتی اجلاس میں آج صرف اراضیات پر غیر مجاز قبضوں کا مسئلہ موضوع بحث رہنے کی اطلاعات ہیں جبکہ حیدرآباد میٹرو ریلوے لائن کے الاٹمنٹ اور حسین ساگر کی صفائی وغیرہ کا مسئلہ اجلاس کے ایجنڈس میں شامل ہی نہیں رہا ۔ کل جماعتی اجلاس میں مسرس ملو بٹی و کرامارکا ، پربھاکر ، جی نرنجن ( کانگریس ) ، ای دیاکر راؤ ، این رمنا تلنگانہ تلگو دیشم ، ڈاکٹر کے لکشمن ( بی جے پی ) ، احمد بن بلالہ ، سید امین الحسن جعفری اور سید الطاف حیدر رضوی ( مجلس ) ، سی ایچ وینکٹ ریڈی ، رویندر کمار ( سی پی آئی ) ، ٹی ویرا بھدرم ، ایس راجیا ( سی پی آئی ایم ) دیگر شریک تھے ۔ اجلاس کے بعد مذکورہ قائدین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کل جماعتی اجلاس میں پیش کردہ مذکورہ تجاویز سے واقف کروایا اور کہا کہ 500 مربع گز سے زائد اراضی کسی بھی صورت میں باقاعدہ نہ بنائے اور تمام اراضی حکومت سخت کارروائی کے ذریعہ حاصل کرے ۔ علاوہ ازیں 500 مربع گز اراضی بھی کتنی مدت سے غیر مجاز طور پر قبضہ کی ہوئی ہے ۔اس کی تفصیلات کے ساتھ اسی مناسبت سے زائد رقم حاصل کر کے ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر باقاعدہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ اس دوران مجلس نے غیر مجاز قبضوں کو غریب افراد کے لیے باقاعدہ بنانے کا حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر مجاز قبضہ کی ہوئی اراضیات کا مکمل جائزہ لینے اور اگر کہیں وقف اراضی پر غیر مجاز قبضہ ہو تو اس کو باقاعدہ نہ بنانے بلکہ احتیاط سے کام لینے کی حکومت کو تجویز پیش کرنے کے ساتھ غیر مجاز قبضہ کی ہوئی اراضیات کو باقاعدہ بنانے سے قبل جے ایل سیز اور ایس کے سنہا ٹاسک فورس رپورٹس کی وصولی کا انتظار کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا ۔