چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے فیصلہ پر غرباء میں خوشی کی لہر
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے غریبوں کو 80تا120مربع گز اراضی باقاعدہ بنانے کا فیصلہ ریاست کے ان غرباء کیلئے خوش آئند ہے جو بے گھر زندگی گذاررہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ یوم کُل جماعتی اجلاس کے دوران مختلف جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کے بعد سرکاری اراضیات پر قابض 80تا120 گز پر موجود غریب مکینوں کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت کے اس فیصلہ سے قابضین کو فائدہ ہوگا جبکہ وہ لوگ حکومت کے اس منصوبہ سے محروم رہیں گے جو اراضیات پر قبضہ جیسے عمل سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی اراضیات کی تقسیم کی پالیسی کی ترتیب کیلئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں ان کے مطابق حکومت تلنگانہ غریب عوام میں نہ صرف اراضیات کی تقسیم کا منصوبہ رکھتی ہے بلکہ بے گھر غریب خاندانوں کو فلیٹس فراہم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں رہنے والے شہریوں کے جامع سروے کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے شہریان تلنگانہ کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنے اور ترقی کے ثمرات راست عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے شہر حیدرآباد کے سلم علاقوں کو عصری طرز کی رہائشی عمارتوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ اس منصوبہ پر کس حد تک عمل آوری ہوسکتی ہے یہ کہا نہیں جاسکتا لیکن حکومت کی دلچسپی پر بھی شبہ کرنا قبل از وقت ہوگا چونکہ حکومت کی جانب سے سلم سے پاک شہر بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر رقومات کی تخصیص و اجرائی کے اعلانات کئے جارہے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت حیدرآباد کے علاوہ اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں موجود سرکاری اراضیات پر چھوٹے قابضین کو باقاعدہ بناتے ہوئے انہیں مالک جائیداد بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی اراضیات سے متعلق پالیسی سے یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ موجودہ ٹی آر ایس حکومت سرکاری، اوقافی اور دیگر مذاہب کے عبادت گاہوں سے منسلک جائیدادوں پر قبضہ جات کو برخاست کروانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ چونکہ چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے لینڈ گرابرس کے خلاف سخت کارروائی کے احکام دیئے جاچکے ہیں۔حکومت تلنگانہ کے اس طرز عمل سے ریاست کے غریب عوام کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ریاست میں سرگرم لینڈ گرابرس کی ٹولی حکومت کے ان اقدامات سے خوفزدہ ہے اور جائیدادوں کی معاملتوں میں احتیاط کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کے سبب سرکاری اراضیات کے تحفظ کے امکانات روشن ہوتے جارہے ہیں۔