عیسائی پادری کی درخواست پر مسلم لاوارث خاتون کی تجہیز و تکفین

سیاست ملت فنڈ کا اقدام ، ناخلف اولاد کے لیے عیسائی رہنما کی خدمت باعث عبرت
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ہر روز بے شمار لاوارث لوگ فوت ہوتے ہیں کوئی حادثہ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگانا ہے تو کسی کی جانیں سڑک کنارے فٹ پاتھوں پر شدید سردی یا پھر شدید گرمی اور طوفانی بارش کے نتیجہ میں چلی جاتی ہیں ۔ سردی میں ٹھٹھر کر گرمی میں دھوپ کی تمازت سے تڑپ کر اور بارش میں تن پر لباس اور پیٹ میں کھانا نہ ہونے کے باعث مرنے والے ان لاوارث مرد و خواتین کو عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانوں میں بڑی بیدردی سے ڈالدیا جاتا ہے اور پھر چند دنوں بعد ان کی آخری رسومات انجام دے دی جاتی ہیں یا تدفین عمل میں آتی ہے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے علم میں کچھ ایسے درد ناک واقعات لائے گئے جن میں مسلم میتوں کو شمشانوں میں سپرد آگ کردیا گیا تھا ان عبرت ناک واقعات کو دیکھتے ہوئے جناب زاہد علی خاں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ اب کوئی مسلم میت غلطی سے بھی شمشان میں نہیں جلے گی بلکہ پورے عزت و احترام کے ساتھ مسلم میتوں کی تجہیز و تکفین عمل میں آئے گی چنانچہ اس تاریخ سے تاحال تقریبا 3000 لاوارث مسلم میتوں کی ادارہ سیاست نے تدفین عمل میں لائی ہے اور اس کارخیر کے لیے ایک خصوصی ٹیم کام کررہی ہے ۔ ایک ایسی ٹیم جن کے قلوب خدمت خلق سے معمور ہیں ۔ لاوارث نعشوں کی تجہیزو تکفین کے دوران بعض ایسے انکشافات ہوتے ہیں جس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور بعض صورتوں میں ہمارے سر شرم کے مارے جھک جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرہ میں بوڑھے ماں باپ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ بیٹے ہو یا بہویں ، یا بیٹیاں ، انہیں بڑی حقارت سے دیکھتے ہیں اور ایسے گھرانے انتہائی بدبخت ہیں جہاں ماں باپ کی خدمت کی بجائے انہیں ماہانہ چند روپئے ادا کر کے بیت المعمرین کے حوالے کردیا جاتا ہے یا پھر دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد اور مضافاتی علاقوں میں گرجا گھروں کے تحت قائم اولڈ ایج ہوم پہنچادیا جاتا ہے ۔ اولاد انہیں بیت المعمرین کے حوالے کرتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ انہوں نے ماں باپ کے تئیں اپنا فرض پورا کردیا ۔ ایسا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ماں باپ کو بیت المعمرین پہنچا کر خود کو جہنم کا حقدار بنالیا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ ادارہ سیاست کو بدویل کے ایک پادری نے اطلاع دی کہ ان کے بیت المعمرین میں ایک ضعیف مسلم خاتون ہاجرہ بیگم کا انتقال ہوگیا ہے چونکہ ادارہ سیاست نے مسلم لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا ہے ۔ اس لیے وہ بھی اس لاوارث مسلم خاتون کی تجہیز و تکفین کی درخواست کرتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس عیسائی پادری نے نہ صرف ایک مسلم خاتون کی اسلامی طریقہ سے تجہیز و تکفین کی درخواست کی بلکہ اس خاتون کی زندگی میں ان کی خدمت میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ واضح رہے کہ اب تک جن 3000 سے زائد لاوارث مسلم نعشوں بشمول 100 خواتین کے میتوں کی تدفین عمل میں آئی ۔ ان میں سے 2000 میتوں کی تدفین قبرستان کوکٹ پلی فیس فور میں عمل میں آئی اور اس کارخیر میں جناب شیخ عبدالعزیز صدر قبرستان کوکٹ پلی فیس فور کا اہم رول رہا جب کہ دیگر 1000 میتوں کی تدفین لال دروازہ ، مصری گنج ، دبیر پورہ ، کومٹ واڑی جیسے علاقوں کے قبرستانوں میں انجام دی گئی ۔ سیاست ملت فنڈ کے ذریعہ انجام دی جارہی اس خدمت کو دیگر علاقوں میں بھی وسعت دی جارہی ہے ۔ بہر حال محترمہ ہاجرہ بیگم کی تجہیز و تکفین میں سکندرآباد کی رہنے والی بشریٰ تبسم ، سیدہ فہیم النساء اور زاہدہ بیگم نے بھی تعاون کیا ۔ حافظ محمد عمر خاں نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی رحمانی ناظم مدرستہ الرشاد و خطیب جامع مسجد اقبال الدولہ بیگم پیٹ نے ایک پادری کی جانب سے مسلم خاتون کی خدمت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود کو حقیقت میں مسلمان بنالیں کیوں کہ خدمت خلق ہی سے اسلام اور مسلمانوں کی پہچان ہے ۔ خدمت خلق کے باعث ہی ہمارے نبی کریم ؐ نے حضرت جعفر ابن ابی طالب کا نام ابوالمساکین رکھا تھا یہ دراصل اصحاب صفہ کو اپنے گھر لے جاکر کھانا کھلاتے تھے ۔ اسی طرح حضرت زین العابدینؓ اس قدر زیادہ صدقہ و خیرات کرتے کے راتوں میں اپنے کاندھوں پر سامان اٹھائے فقراء و مساکین کو دے آتے تھے ۔ آپ کا جب وصال ہوا تب آپ کے کاندھوں پر نشانات پائے گئے ۔ بہر حال مولانا نے مسلمانوں کو خدمت خلق سے جڑ جانے کا مشورہ دیا ۔۔