ایس سی طبقہ سے عیسائیت قبول کرنے پر فوری مراعات ، اسلام قبول کرنے پر مراعات ندارد
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے کرسمس سے عین قبل عیسائی طبقہ کیلئے کئی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ حیدرآباد میں 10 کروڑ روپئے سے کرسچین بھون کی تعمیر کے اعلان کے دوسرے ہی دن نہ صرف بجٹ جاری کردیا گیا بلکہ ماریڈ پلی علاقہ میں دو ایکر اراضی کی نشاندہی کی گئی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کرسچین بھون کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھیں گے۔ کرسچین طبقہ سے حکومت کی ہمدردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دو دن میں تمام کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے درج فہرست اقوام سے عیسائیت قبول کرنے والے افراد کیلئے رعایتوں کی برقراری کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر کوئی ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والا شخص عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے قانونی مراعات کے ماسوا دیگر تمام مراعات حاصل رہیں گی۔ حکومت نے اس سلسلہ میں باقاعدہ طور پر احکامات جاری کئے۔ ایس سی طبقہ یعنی دلتوں کے عیسائیت قبول کرنے پر انہیں مراعات دی جارہی ہیں جبکہ دلتوں کے اسلام قبول کرنے کی صورت میں اس طرح کی کوئی مراعات نہیں ہیں۔ شیڈول کاسٹ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری جے ریمنڈ پیٹر کے احکامات کے مطابق عیسائیت قبول کرنے والے ایس سی طبقہ کے افراد قانونی مراعات کے ماسوا دیگر مراعات کے حقدار ہوں گے ۔ تاہم انہیں ایس سی طبقہ کیلئے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں تحفظات جیسی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔ عیسائیت قبول کرنے والے دلتوں کی جانب سے مراعات کی برقراری کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی گئی ہے ۔ مینجنگ ڈائرکٹر کرسچین فینانس کارپوریشن اور دیگر تنظیموں نے بی سی ۔ سی طبقہ کیلئے مراعات کی برقراری کی حکومت سے نمائندگی کی اور اراضی کی تقسیم میں بھی اس طبقہ کو فی کس 3 ایکر اراضی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عیسائیت قبول کرنے والے ایس سی طبقہ کو بی سی سی زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے ان نمائندگیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صرف قانونی مراعات سے ہٹ کر دیگر سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح عیسائیت قبول کرنے والے دلتوں کو بھی ایس سی طبقہ کے مماثل کئی مراعات حاصل ہوں گی۔