عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی پر قبضہ کی دوبارہ کوشش

حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی قیمتی 90 ایکڑ 17 گنٹے قیمتی اراضی پر لینڈ گرائبرس بری نظریں گاڑے ہوئے ہیں ۔ اس علاقہ میں فی مربع گز اراضی کی قیمت 50 ہزار روپئے ہے ۔ اس طرح ایک ایکڑ اراضی کی قیمت 242000000 اور 90.17 ایکڑ اراضی ( 436422.8 گز ) کی قیمت 21821140000 بنتی ہے ۔ اس قدر قیمتی موقوفہ اراضی کو ہڑپنے کی کوشش جاری ہے ۔ حال ہی میں ٹریمپ اسپورٹس اکیڈیمی / راجو کرکٹ کلب کا بیانر لگاتے ہوئے ایک لینڈ گرائبر نے عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی ایک ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اطراف سے اسٹیل کی دیواریں نصب کردیں ۔ ہزاروں کروڑوں روپئے مالیتی اس اراضی پر قبضہ کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے مسجد عالمگیر و عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ و قبرستان کی اراضی کی انتظامی کمیٹی نے پولیس مادھو پور میں ناجائز قبضہ کو روکنے کی درخواست کی جب کہ کمیٹی نے ریاستی وقف بورڈ کو اس بارے میں آگاہ کیا ۔ چنانچہ اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ کی ٹاسک فورس ٹیم نے جناب سید عبدالقدوس کی قیادت میں دورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور پھر پولیس اسٹیشن مادھو پور میں ایک ایف آئی آر درج کروائی ۔ اگر پولیس اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو پھر موقوفہ اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف لینڈ گرابر شیٹ کھولی جاسکتی ہے 15 فروری کو پولیس مادھو پور نے ٹاسک فورس وقف بورڈ کے انسپکٹر سید عبدالقدوس کی شکایت پر تعزیرات ہند کی دفعہ 427 ، 447 کے تحت جو ایف آئی آر نمبر 152/2014 درج کی ہے ۔ اس میں ملزمین کی حیثیت سے ٹریمپ اسپورٹس اکیڈیمی / راجو کرکٹ کلب کے نام کو درج کرنے کی بجائے اسپورٹس اکیڈیمی کے منتظمین و دیگر کے الفاظ درج کئے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ملزم اسپورٹس اکیڈیمی کا نام کیا ہے اور پولیس نے ایف آئی آر میں اس کا نام درج کیوں نہیں کیا ؟

مینجنگ کمیٹی کے صدر محمد انور خاں ، سکریٹری محمد سلیم ، خازن محمد شریف کے علاوہ ارکان محمد محسن ، محمد سراج ، محمد عارف اور چھوٹو نے بتایا کہ اس اربوں روپئے مالیتی قیمتی اوقافی جائیداد کو بچانے کے لیے ریاستی وقف بورڈ کو آگے آنا ضروری ہے ۔ خاص طور پر اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس کو اس عیدگاہ کی اراضی کا معائنہ کرنا چاہئے تاکہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ ریاستی وقف بورڈ صرف اس ایک جائیداد سے ماہانہ ہزاروں کروڑ روپئے کی آمدنی کے ذرائع پیدا کرسکتا ہے ۔ انتظامی کمیٹی کا یہ استدلال بالکل درست ہے لیکن ریاستی وقف بورڈ کو سنجیدگی کے ساتھ اس اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ بڑی صنعتی و کاروباری اداروں کو یہ اراضی کرایہ یا لیز پر دے سکتا ہے اراضی پر ہمہ منزلہ کامپلکس تعمیر کرتے ہوئے ان کے کرایوں سے دوسری اوقافی جائیدادوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔ انتظامی کمیٹی کے سکریٹری محمد سلیم نے بتایا کہ اربوں روپئے مالیتی اراضی کی حفاظت کے لیے اگر وقف بورڈ حصار بندی کی دیواروں کی تعمیر کے لیے کچھ لاکھ خرچ بھی کرے تو یہ کوئی نقصان کا سودا نہیں ہوگا ۔ شہر میں اور وہ بھی ہائی ٹیک سٹی کے قریب ایسی اراضی جس پر ارب پتی آندھرائی افراد کی نظریں ہیں ان کا مقابلہ کرنا بہت بڑی بات ہے مسجد و عیدگاہ کی انتظامی کمیٹی جس انداز میں اس لابی کے خلاف سینہ سپر ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ یہ لوگ وسائل کے نہ ہونے کے باوجود بھی لینڈ گرابروں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور وقف بورڈ مسجد عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی انتظامی کمیٹی کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔۔