عوام کی بہتر خدمات اور بلدیات کی کارکردگی اچھی بنانے پر توجہ

چیف منسٹر کے سی آر کا جائزہ اجلاس ، قوانین بلدیات میں ترمیم پر غور و خوض
حیدرآباد۔12 اپریل(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی تمام بلدیات میں عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ریاست کی بلدیات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کے سلسلہ میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں اعلی عہدیداروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ریاست میں نئے بلدی قوانین کے سلسلہ میں تبادلۂ خیال کیا ۔ بتایاجاتا ہے کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے رائے دہی کے دوسرے دن ریاستی حکومت کے اعلی عہدیدارو ں کے ہمراہ ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ریاست کی بلدیات میں عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ان بلدیات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے کس طرح کے قوانین کی ضرورت ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست کی بلدیات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے علاوہ ریاست میں موجود بلدی قوانین میں ترمیم ناگزیرہے اور کہا جار ہاہے کہ ان قوانین میں ترمیم کے ذریعہ ہی محکمہ بلدی نظم و نسق اور بلدیات کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کو محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے روانہ کی گئی تجویز پر غور کرنے کے بعد مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یہ جائزہ اجلاس منعقد کیا اور اس جائزہ اجلاس کے دوران عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ضروری اقدامات اور قانون سازی کے متعلق دستاویزات تیار کئے جائیں ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر صدارت منعقدہ اس اجلاس کے دوران بلدی مسائل کے علاوہ ریاست کی بلدیات میں موجود عہدیداروں کے مسائل اور دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بتایاجاتا ہے کہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر کو عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں بلدی قوانین کی ترمیم یا نئے قوانین کی تدوین کے سلسلہ میں طویل مدتی حکمت عملی تیار کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ان قوانین سے واقف کرواتے ہوئے شہر ی علاقوں کی اہمیت و افادیت کو پیش کیا جائے اور شہریوں میں اس بات کا احساس پیدا کیا جائے کہ ان کے شہر کی بہتر ی کا خیال انہیں خود کو بھی رکھنا چاہئے ۔بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بہت جلد نئے بلدی قوانین کے سلسلہ میں مسودہ تیار کرتے ہوئے اس پر عوامی رائے کے حصول کی کوشش کی جائے گی اور اس کے فوری بعد قانون سازی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔