عوام بلا خوف و خطر رائے دہی میں حصہ لیں: فیروز خاں

بوگس رائے دہی کو روکنے کے لیے عوام سے چوکسی کی اپیل
حیدرآباد ۔ 10۔ اپریل (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے کانگریس امیدوار محمد فیروز خاں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر رائے دہی میں حصہ لیں اور مقامی جماعت کی جانب سے غنڈہ گردی سے خوفزدہ نہ ہوں۔ فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد میں شکست کے خوف سے مقامی جماعت نے سرکاری مشنری اور پولیس کا استعمال کرتے ہوئے بوگس رائے دہی کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس قائدین اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ پولنگ بوتھس سے دور رہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے اور ہر شخص کو ووٹ کے استعمال کا دستور نے حق دیا ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پسند کے امیدوار کو منتخب کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پرانے شہر کے گلی کوچوں کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے ملاقاتیں کیں اور مقامی مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تاریخی شہر حیدرآباد کے قلب میں کئی سلم علاقے ہیں جو پانی اور ڈرینج جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ سلم علاقے حیدرآباد کی ترقی کے نام پر بدنما داغ ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ شہر کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں نے کبھی بھی پسماندگی ختم کرنے پر توجہ نہیں دی۔ فیروز خاں نے کہا کہ وہ پرانے شہر کے ہر اسمبلی حلقہ کیلئے ترقیاتی منصوبہ رکھتے ہیں۔ ایک ہزار کروڑ سے وہ پرانے شہر کا نام اولڈ سٹی سے بدل کر گولڈ سٹی کردیں گے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اطراف و اکناف بوگس رائے دہی کو روکنے کیلئے چوکسی اختیار کریں اور کسی بھی غیر قانونی حرکت پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی عوام کے درمیان موجود رہیں گے ۔ فیروز خاں نے کہا کہ بوگس رائے دہی مذہبی اعتبار سے بھی قابل قبول نہیں ہے، لہذا مقامی جماعت کے بہکاوے میں آئے بغیر رائے دہندوں کو صرف اپنا حقیقی ووٹ استعمال کرنا چاہئے ۔