عوامی شعبہ کی بینک ملازمین کی دو روزہ ہڑتال

تروپتی 5 جنوری ( پی ٹی آئی ) سرکاری شعبہ کے تمام بینکس اور علاقائی دیہاتی بینکس کے کام غالباً 30 جنوری سے دو روز کیلئے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ بینکس یونینوں (یو ایف بی یو ) نے اجرتوں پر نظر ثانی اور چند دوسرے مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہوئے دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔یو ایف بی یو کے قومی کنوینر ایم وی مرلی نے آج پی ٹی آئی سے کہا کہ مرکز اور انڈین بینکس اسو سی ایشن آئی بے اے بینک شعبہ سے وابستہ تقریبا 10 لاکھ ملازمین کی اجرتوں میں 32 فیصد اضافہ کے 14 ماہ طویل زیر تصفیہ مطالبہ کی یکسوئی میں ناکام ہوگئے ہیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بینکنگ شعبہ میں جاری اصلاحات کے عمل کو فی الفور روک دیں ۔ کیونکہ اس سے ملک میں بڑے پیمانے پر بیرونی بینکوں کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ ایم وی مرلی نے کہا کہ بیرونی اور ہندوستانی خانگی کارپوریٹ شعبہ کی بینکیں ملک میں عام آدمی کی ضروریات کی تکمیل نہیں کرسکتی ۔ عوامی شعبہ کے بینکس ملازمین کی اجرتوں پر نظر ثانی نومبر 2012 سے زیر تصفیہ ہے ۔ یو ایف بی یو عوامی شعبہ کی 9 بینکوں کے ملازمین اور افسران کی تنظیموں کا وفاق ہے ۔ ملک میں عوامی شعبہ کے 27 بڑے بینکس ہیں جن سے تقریبا 8 لاکھ ملازمین وابستہ ہیں ۔ ان 27 بینکوں کی ملک بھر میں 50,000 شاخیں موجود ہیں ۔