عملہ کی کمی اور شرائط ، شادی مبارک اسکیم کی کامیابی میں رکاوٹ

حیدرآباد میں 1460 درخواستوں میں سے 700 کی منظوری ، ضلع رنگاریڈی میں 575 فارمس کی یکسوئی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی) : حکومت تلنگانہ نے قبائلی و اقلیتی لڑکیوں کے لیے شادی مبارک اسکیم شروع کی اور اس کے لیے جملہ 9 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ تاہم ان 9 کروڑ روپیوں میں سے تاحال صرف 3 کروڑ روپئے استعمال کئے گئے ۔ جہاں تک شادی مبارک اسکیم پر موثر عمل آوری کا سوال ہے اس بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹاف کی کمی کے باعث درخواستوں کی یکسوئی بالخصوص انکوائری کا عمل سست روی کا شکار ہے ۔ اس کے علاوہ انکوائری کے لیے جانے والے عملہ کو ڈی اے اور ٹی اے بھی نہیں دیا جاتا ۔ ان حالات میں درخواستوں کی منظوری میں تاخیر یقینی بن رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے دفاتر میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عملہ میں اضافہ کیا جائے یا پھر اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے مستقل اسٹاف میں سے حیدرآباد کے لیے چار اور ضلع رنگاریڈی کے لیے چار ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں تو بھی اس مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں شادی مبارک اسکیم کے تحت 51 ہزار روپئے حکومت امداد حاصل کرنے کی غرض سے جملہ 1460 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں سے 700 درخواست گذاروں کی انکوائری کے بعد ان کی درخواستوں کو منظوری بھی دے دی گئی ۔ اس طرح اب 660 درخواستیں التواء میں پڑی ہوئی ہیں ۔ اسی طرح ضلع رنگاریڈی میں جملہ 660 درخواستیں موصول ہوئی ۔ ان میں سے 575 کو منظوری دی جاچکی ہے ۔ وہاں 85 درخواستوں کی یکسوئی باقی ہے ۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے اہم وجہ اسٹاف کی کمی ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ارکان عملہ کو انکوائری کے لیے جانے پر ٹی اے وغیرہ نہیں دیا جاتا ۔ اس کے برعکس اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں کافی اسٹاف ہے کچھ عرصہ کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ پہلے شادی سے دو تین ماہ قبل بھی درخواستوں کا آن لائن ادخال عمل میں لایا جاسکتا تھا ۔ لیکن اب اندرون 30 یوم آن لائن درخواست داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ سیاست ہیلپ لائن سے رجوع ہونے والے اکثر افراد نے بتایا کہ دولہے کا شناختی ثبوت طلب کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ عہدہ دار کہہ رہے ہیں کہ دولہے کے شناختی کارڈ کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن آن لائن ادخال کے سسٹم میں درخواست داخل کرتے وقت اگر دولہے کے کوئی شناختی ثبوت کی اسکیان کردہ کاپی داخل نہ کی جائے تو آن لائن فارم قبول ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس بارے میں حکام کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف باتوں سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں ۔ ایک اور بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے انکم سرٹیفیکٹ ، لڑکی کی تصویر ، پیدائش کا صداقت نامہ / ایس ایس سی میمو / لڑکی کے آدھار کارڈ کی نقل ، رقعہ اور لڑکی کی بینک پاس بک کی نقل داخل کرنی لازمی قرار دی گئی ہے ۔ جب کہ شادی کے بعد اس اسکیم سے استفادہ کرنے کی خواہاں لڑکی کے لیے انکم سرٹیفکٹس لڑکی کی تصویر ، پیدائش کا صداقت نامہ یا ایس ایس سی میمو ، لڑکی کے آدھار کارڈ کی نقل ، دولہے کا آدھار کارڈ / راشن کارڈ ، ووٹر آئی ڈی کارڈ ، رقعہ ، نکاح نامہ کی کاپی ، میریج سرٹیفیکٹ کی کاپی ، شادی کی تصویر اور لڑکی کی بینک پاس بک ، پیش کرنے کا لزوم رکھا گیا ہے ۔ عوام چاہتے ہیں کہ محکمہ اقلیتی بہبود اس اسکیم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے شرائط کو آسان سے آسان تر بنائے ۔۔