عمران خان اور طاہر القادری کا پارلیمنٹ کی سمت جلوس

اسلام آباد ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) فوج کی تعیناتی سے بے پرواہ پاکستان کے اپوزیشن قائد عمران خان اور عالم دین طاہر القادری نے آج اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ زبردست قلعہ بند علاقہ ’’ریڈ زون‘‘ کی سمت جلوس کی شکل میں پیشرفت کرنا شروع کردیا۔ عمران خان اور طاہر القادری گزشتہ چھ دن سے وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (نواز) حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حکومت مخالف مظاہرہ میں زندگی کے ہر شعبہ کے افراد شامل ہیں، جن کی قیادت عمران خان اور طاہر القادری کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ کسی بھی حالت میں مستعفی نہیں ہوں گے۔ روزنامہ ڈان نے ان کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے۔ جب احتجاجی جلوس کی شکل میں پارلیمنٹ کی سمت پیشرفت کر رہے تھے تو نواز شریف ریڈ زون میں واقع اپنی قیامگاہ پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ برسر اقتدار پارٹی کے سینئر قائدین بھی تھے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے ۔ قبل ازیں دونوں قائدین نے علحدہ جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد ازاں ایک ساتھ جلوس نکالے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے کا اندیشہ رکھے ہوئے احتجاجی مظاہروں پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ ریڈ زون کو قلعہ بند کردیا گیا ہے اور فوج نے اپنے مورچے سنبھال لئے ہیں۔ اندیشے ہے کہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی احتجاجیوں کی کسی بھی کوشش کے نتیجہ میں جھڑپ ہوسکتی ہے۔

عمران خان نے احتجاجیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی قومی اسمبلی اور جعلی وزیراعظم کے خلاف پرامن احتجاج کریں۔ وزیر داخلہ پاکستان چودھری نثار نے کہا کہ حکومت نے ریڈ زون کا حفاظتی انتظام فوج کے حوالے کردیا ہے۔ سربراہِ فوج جنرل راحیل شریف نے اس اعلان سے پہلے وزیراعظم ملاقات کر کے حساس علاقہ میں صیانتی صورتحال پر ان سے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ دریں اثناء طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ نواز شریف پر استعفیٰ کیلئے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے وہ متوازی پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کریں گے ۔ تاہم انہوں نے عوامی پارلیمنٹ کے قیام کے دستوری جواز کا اظہار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ جعلی ہے کیونکہ انتخابات میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جبکہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خلاف شورش زدہ سرحدی علاقوں میں کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ملازمین پولیس پر حملہ کے الزام میں طاہرالقادری کا گرفتاری وارنٹ جاری
لاہور ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی ایک عدالت نے آج حکومت مخالف عالم دین طاہرالقادری اور ان کے 72 حامیوں کا ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کردیا کیونکہ انقلاب جلوس سے پہلے ملازمین پولیس کے ساتھ ان کی ایک جھڑپ ہوگئی تھی۔ یہ جلوس وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے۔ انسداد دہشت گردی عدالت گجراں والا کے جج اتفاق عباسی نے طاہر القادری اور ان کے حامیوں کو گھاکر منڈی میں 61 ملازمین پولیس کو حملہ کرکے زخمی کردینے کے الزام میں گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔