وزارت صحت کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ ، شہر حیدرآباد کی تہذیب سے متاثر
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے ہندوستان کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ ان عرب ممالک کے حکمرانوں حکام اور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستانی تعلیمی اداروں کا معیار مغربی ممالک سے کم نہیں ۔ ہندوستانی یونیورسٹیز اور کالجس میں پیشہ وارانہ کورسیس حاصل کرنے کے لیے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں عرب طلباء ہندوستان آتے ہیں ان میں سلطنت آف عمان کے طلبہ کی بھی ایک کثیر تعداد شامل ہوتی ہے ۔ ان طلبہ کے لیے حیدرآباد میں موجود یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر میں یمن ، عمان ، عراق ، متحدہ عرب امارات ، فلسطین کے علاوہ مصر اور سوڈان جیسے آفریقی ممالک کے طلباء نظر آتے ہیں ۔ عمانی وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ایک وفد نے صلاح الدین البلوشی ( ڈائرکٹر ڈینٹل اینڈ اورل ہیلتھ ) کی قیادت میں حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے عمانی طلباء کے داخلوں کا جائزہ لیا اس وفد میں ڈاکٹر حمود الحارثی ، جناب خالد الذدجالی ، محترم عینی البلوش اور عبدالسلام الغطریقی شامل تھے ۔ اس وفد نے شہر میں ایشین انسٹی ٹیوٹ آف اڈوانسڈ ڈینسٹری کے تیار کردہ ڈینٹل اسسٹنٹ سرٹیفیکٹ کورس (DACC) کا جائزہ لیا ۔ یہ کورس سری ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے چلایا جارہا ہے ۔ عمانی وفد نے راقم الحروف سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت عمان کی جانب سے 40 تا 80 طلباء وطالبات کو ڈینٹل اسسٹنٹ کا کورس کرنے کے لیے بھیجا جائے گا اور ان کا قیام اے سی گارڈ خیریت آباد کے قریب ہوگا ۔ ڈاکٹر صلاح الدین البلوشی کے مطابق ابتداء میں 40 عمانی طالبات کو حیدرآباد میں اس کورس کی تربیت دی جائے گی ۔ اور پھر بعد میں مزید 40 طلباء کو حیدرآباد روانہ کیا جائے گا تاکہ عمان کی وزارت صحت میں زیادہ سے زیادہ عمانی شہریوں کو ملازمتیں فراہم کرنے میں مدد مل سکے ۔ حیدرآباد میں دو روزہ قیام کے دوران اس عمانی وفد نے ملک کے ممتاز ڈینٹل سرجن ڈاکٹر شفیع احمد کی رہنمائی میں سری ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ میں سکھائے جارہے ڈینٹل کورس کا بغور معائنہ کیا ۔ جہاں تک ڈاکٹر شفیع احمد کا سوال ہے انہوں نے تقریبا 22 برسوں تک مکہ مکرمہ میں سعودی وزارت صحت کے ہاسپٹلوں میں ڈینٹل سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دی انہیں قطر کی وزارت صحت میں بھی اعلی عہدہ پر فائز رہنے کا موقع ملا ۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں تقریبا 1100 عمانی طلبہ زیر تعلیم ہیں ان میں انڈر گریجویٹ سے لے کر پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی کے طلبہ بھی شامل ہیں ۔ انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن کے تحت ہندوستانی حکومت نے 2011 سے عمانی طلبہ کو اسکالر شپس کے ذریعہ پیشہ وارانہ کورسیس میں داخلوں کا موقع فراہم کیا ۔ اس وقت اسکالر شپس پر تعلیم حاصل کرنے والے عمانی طلبہ کی تعداد صرف 12 تھی لیکن بعد میں وہ 125 ہوئی اور اپریل 2014 میں ایسے طلبا کی تعداد بڑھاکر 150 کردی گئی جس سے ہندوستان اور عمان کے باہمی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ سلطنت آف عمان میں 5 لاکھ سے زائد ہندوستانی تارکین وطن برسر خدمت ہیں اور ہند ۔ عمان باہمی تجارت 5 ارب ڈالرس سے تجاوز کر گئی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صلاح الدین البلوشی ڈائرکٹر ڈینٹل اینڈ اورل ہیلتھ وزارت صحت سلطنت عمان اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان نے بتایا کہ حیدرآباد میں اسلامی تہذیب دکھائی دیتی ہے ہر طرف مساجد نظر آتی ہیں ۔ سالار جنگ میوزیم ، چارمینار ، مکہ مسجد اور دیگر تاریخی عمارتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہاں کے لوگ بھی با اخلاق اور بامروت ہیں ان کی مہمان نوازی مثالی ہے ۔ اس تاریخی شہر کے کھانوں کا جواب نہیں ۔ عمانی وفد نے قطر ، بحرین کے ساتھ ساتھ سلطنت عمان سے سیاست انٹرنیشنل میڈل ایسٹ ایڈیشن کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ سیاست ہندوستان اور عمان کے درمیان تعلقات مزید مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کرے گا ۔ عمانی وفد نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ادارہ کی تعلیمی صحافتی خدمات مثالی ہیں ۔۔