حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ (سیاست نیوز) حج ہاؤز واقع نامپلی میں صحت و صفائی کے انتظامات اور مینٹننس میں کوتاہیوں کا آج اس وقت انکشاف ہوا جب حج کی قرعہ اندازی کے سلسلہ میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد حج ہاؤز پہنچے۔ حج ہاؤز کی عمارت کے سیلر میں قرعہ اندازی کی تقریب منعقد کی گئی تھی لیکن وہاں صفائی کے ناقص انتظامات کے سبب بدبو پھیل چکی تھی جس کے سبب عازمین حج بیٹھنے میں دشواری ہورہی تھی۔ حج ہاؤز کے مینٹننس کی ذمہ داری وقف بورڈ کی اور اس کے لئے ہر سال حکومت باقاعدہ بجٹ منظور کرتی ہے لیکن حج ہاؤز کے مینٹننس سے متعلق عہدیدار اور ملازمین ہمیشہ ہی غفلت و لاپرواہی کا شکار دیکھے گئے۔ سابق میں بھی ایک مرتبہ چیف منسٹر کی آمد سے عین قبل حج ہاؤز کی ڈرین لائین پھٹ پڑی تھی۔ آج ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی کی آمد سے عین قبل مینٹننس عملے نے اسٹیج کے افراد فریشنر اسپرے کا استعمال کرتے ہوئے بدبو اور تعفن پر قابو پانے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ قرعہ اندازی کی تقریب سیلر میں منعقد کرنے کے لمحہ آخر میں کئے گئے فیصلہ کے سبب سیلر میں صفائی کے انتظامات نہیں کئے جاسکے۔ سیلر میں ہمیشہ گندگی اور ڈرین لائین کا پانی بہتا دکھائی دیتا ہے۔ صفائی کے ناقص انتظامات کے سبب عازمین حج کو دشواری پیش آئی۔ حکام نے اہم شخصیتوں کی فکر کرتے ہوئے اسٹیج کے اطراف اسپرے کا استعمال کیا جبکہ عازمین کی نشستوں کے پاس بدبو بدستور آرہی تھی۔ اسی طرح حج ہاؤز کے ایک حصہ میں موجود دو میں سے ایک لفٹ گزشتہ 15 دن سے بند پڑی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ اس لفٹ کے بند ہونے سے عوام چھٹویں منزل تک سیڑھیوں کے ذریعہ جانے پر مجبور ہیں۔ ضعیف افراد اور خواتین کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس سلسلہ میں مینٹننس کے عملہ کو بارہا توجہ دلائی گئی لیکن لفٹ کو درست کرنے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ اس حصہ میں موجود دوسری لفٹ صرف چوتھی اور پانچویں منزل پر جاتی ہیں اور عام طور پر عہدیدار ہی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر عوامی نمائندوں اور اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی آمد کے باوجود حج ہاؤز میں صحت صفائی کے ناقص انتظامات وقف بورڈ کی کارکردگی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش کے وزیر اور اعلیٰ عہدیداروں نے بھی آج حج ہاؤز کا دورہ کیا لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حج ہاؤز کے مینٹننس پر کس حد تک توجہ دی جارہی ہے ۔ سیلر میں موجود ٹائیلٹس کی صفائی کا کوئی نظم نہیں ۔ اس کے علاوہ حج ہاؤز کے کھلے میدان میں موجود ٹائیلیٹس کا غیر متعلقہ افراد استعمال کرتے ہوئے گندگی پھیلا رہے ہیں۔ عام طور پر حج کیمپ کے وقت ان کا استعمال ہوتا ہے لیکن بعد میں انہیں بند کرنے کی کسی کو فکر نہیں ہوتی جس کے سبب گندی اور کچرے کے انبار دکھائی دیتے ہیں۔