علحدہ تلنگانہ میں پچھڑے طبقات کے ساتھ نا انصافیاں جاری

حیدرآباد /21 اپریل ( سیاست نیوز ) تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد پچھڑے طبقات کو امید تھی اور انہوں نے حقیقی آزادی اور ذہنی غلامی سے نجات کا ایک خواب دیکھا تھا جو ناکام ہوتا نظر آرہا ہے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کیلئے جو جدوجہد کی گئی اور قیام کے بعد سنہرے تلنگانہ کے جو وعدے کئے گئے اب اقدامات سے پچھڑے ہوئے طبقات ناامید ہوگئے اور اب وہ ماوسٹ تحریک سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔ انہیں امید تھی کہ وہ اعلی ذات طبقات کے حکمرانوں سے نجات ( آزاد ) ہوجائیں گے لیکن تلنگانہ و آندھرا دونوں ہی تلگو ریاستوں میں نتائج و اقدامات یکثر مخالف ہیں ۔ تلنگانہ میں ( ویلمہ ) اور آندھرا میں ( کما) اعلی ذات کا طبقہ برسر اقتدار ہے ۔ حصول انصاف ، سماجی انصاف بنیادی و دستوری حقوق کیلئے منتظر عوام اب اپنی توجہ کسی اور جانب مرکوز کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ کی کل آبادی میں ایک فیصد سے بھی کم تناسب رکھنے والا طبقہ ( ویلمہ ) اور آندھرا میں کچھ حد تک زیادہ تناسب رکھنے والا طبقہ (کما ) اقتدار پر قابض ہے ۔ مسلسل نا انصافیوں اور اعلی ذات حکمرانوں کی پالیسیوں سے پریشان ہوکر پچھڑے طبقات ایک بار پھر اس راستہ کو اپنا سکتے ہیں جس راستے کے ذریعہ انہوں نے سابق میں اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا تھا اور ایسے امکانات کافی حد تک ممکن ہیں ۔ ممنوعہ تنظیم پیپلز وار گروپ (ماوسٹ ) کیلئے قائد راماکرشنا کی قیادت کی جانب ان طبقات کا جھکاؤ بڑھ سکتا ہے ۔ چونکہ ماوسٹ سنٹرل کمیٹی کے قائد راما کرشنا کے زیر قیادت تربیت یافتہ کیڈر ان افراد کو بہ آسانی متاثر کرسکتا ہے ۔چونکہ آندھرا اور تلنگانہ میں اپنے قدیم اثرات کو مضبوط کرنے کی دوڑ میں ماوسٹ قائد ایسے موقع اور پچھڑے ہوئے طبقات سے جاری ناانصافی کا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کچھ حصہ اور تلنگانہ ، آندھرا ، تلنگانہ ، اڑیسہ سرحدی علاقوں میں اور آندھرا کے کچھ حصہ میں اپنا اثر و رسوخ و دبدبہ رکھنے والی ماوسٹ قیادت کی جانب پچھڑے ہوئے طبقات امید کی نظریں ڈال سکتے ہیں ۔