حیدرآباد 16 فبروری (پی ٹی آئی) یو پی اے حکومت اس ہفتہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل منظور کرنے کی کوششوں کو تیز تر کرچکی ہے جس کے پیش نظر علاقائی خطوط پر منقسم آندھرا پردیش میں علحدہ تلنگانہ اور متحدہ ریاست کی حامیوں نے اپنے متعلقہ ایجنڈوں پر حصول تائید کی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی آندھرا کی تقسیم کے خلاف کل دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی ریالی منظم کررہی ہے۔ اس مقصد کیلئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائدین اور حامیوں کی کثیر تعداد دو ٹرینوں کے ذریعہ قومی دارالحکومت روانہ ہوچکی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی ترجمان واسی ریڈی پدما نے کہا کہ یہ دھرنا، دہلی کی ہٹ دھرمی اور تلگودیشم عوام کی عزت نفس کے درمیان فیصلہ کن لڑائی ہے جس میں موخر الذکر کو ہی یقیناً فتح حاصل ہوئی‘‘۔ آندھرا پردیش نان گزیٹیڈ آفیسر اسو سی ایشن ( اے پی این جی اوز اے ) کی قیادت میں فورم برائے تحفظ متحدہ آندھرا پردیش نے بھی اس ہفتہ دہلی میں احتجاج منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں تقسیم کے خلاف رام لیلا میدان پر جلسہ عام بھی منعقد کیا جائے گا۔اس دوران علحدہ ریاست کے حامیوں نے تلنگانہ بل کی منظوری کیلئے اپنی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے۔
ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راو، اُن کی پارٹی کے ارکان اسمبلی دیگر قائدین کے علاوہ تلنگانہ کی حامی دیگر تنظیموں اور جماعتوں کے قائدین بل پر حصول تائید کیلئے دہلی میں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ دہلی میں آندھرا پردیش بھون گذشتہ دو ہفتوں سے اس حساس مسئلہ پر احتجاج اور تصادم کا مرکز بن چکا ہے۔ ہندوستانی پارلیمانی تاریخ کا ایک انتہائی نچلا ترین واقعہ 13 فروری کو لوک سبھا میں پیش آیا جب ایک رکن نے کالی مرچی کے اسپرے کا استعمال کیا جس کے نتیجہ میں تین ارکان پارلیمنٹ کو ہاسپٹل میں شریک ہونا پڑا تھا۔ تلنگانہ بل کی پیشکشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے درمیان آندھرا پردیش کے 16 آندھرا پردیش کے 16 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا تھا۔