وشاکھاپٹنم ۔ 15 اپریل (پی ٹی آئی) قومی سطح پر تیسرے محاذ کے قیام کی تجویز کو عملاً ترک کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے آج کہا کہ وہ علاقائی پارٹیوں کے ساتھ ایک قومی اتحاد نہیں بنائے گی۔ اگرچہ کہ وہ مرکز میں بی جے پی زیرقیادت نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تنہا جدوجہد کرنے کے علاوہ خصوصی مسائل پر دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے۔ یہ اعلان پارٹی کے جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے سی پی آئی ایم کی 21 ویں کانگریس کے موقع پر کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی غیر بی جے پی، غیرکانگریس سیاسی طاقت بنانے پر زور نہیں دے گی۔ انہوں نے جنتاپریوار کی پارٹیوں کے انضمام کے دن یہ بیان دیا ہے۔ 6 پارٹیوں پر مشتمل جنتا پریوار تشکیل دیا گیا ہے۔ پرکاش کرت نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان پارٹیوں کے ساتھ مشترکہ تحریکوں اور جدوجہد میں حصہ لے سکتے ہیں۔
خاص موقعوں پر بعض ریاستوں میں انتخابی اتحاد بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ ہم قومی سطح پر اس طرح کی پارٹیوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے جبکہ ان پارٹیوں نے اپنی پالیسیاں اور پروگرام بنالئے ہیں۔ اس لئے یہ پارٹیاں بی جے پی اور کانگریس کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ ہم مختلف مسائل پر ان پارٹیوں کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ان کی پارٹی نے تیسرے متبادل یا تیسرے محاذ کا نظریہ پیش کیا تھا۔ سی پی آئی ایم نے موجودہ سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھ کر تیسرے محاذ کے قیام کو غیرضروری متصور کیا ہے۔ کانگریس بدترین ہزیمت کا شکار ہے اور گذشتہ تین سال کے دوران سی پی آئی ایم نے اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کی عددی طاقت گھٹ گئی ہے۔ مغربی بنگال اور کیرالا میں بھی پارٹی کا موقف کمزور ہے۔ قبل ازیں پارٹی کے سینئر لیڈر سیتارام یچوری جنہوں نے پارٹی کے اعلیٰ عہدہ جیسے جنرل سکریٹری کیلئے اصل دعویدار ہونے کا اعلان کیا تھا، کہاکہ عام آدمی پارٹی کے اندر انتشار پایا جاتا ہے۔ یہ پارٹی معاشی مسائل پر غیرواضح موقف رکھتی ہے۔ سی پی آئی ایم کی کانگریس میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ قائدین کے بشمول 1000 مندوبین نے شرکت کی ہے۔