نئی دہلی ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے آج کہا ہے کہ 16 ڈسمبر اجتماعی عصمت ریزی کیس کے سزا یافتہ مجرم کے انٹرویو کو الیکٹرانک میڈیا میں پیش کرنے پر پابندی کے احکامات تا اطلاع ثانی برقرار رہیں گے جبکہ یہ انٹرویو تہاڑ جیل میں لیا گیا تھا، دہلی پولیس نے یہ درخواست کی تھی کہ متنازعہ انٹرویو پیش کرنے سے میڈیا کو باز رکھا جائے جس پر چیف میٹروپالیٹن مجسٹریٹ سنجے کھنگوال نے یہ احکامات جاری کئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے یہ انٹرویو پیش (براڈ کاسٹنگ) کیا ہے تو پولیس اس کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ دہلی پولیس نے اس خصوص میں کل ایک ایف آئی آر درج کرتے ہوئے میڈیا کو مذکورہ انٹرویو پیش کرنے سے باز رکھنے کیلئے عدالت سے احکامات حاصل کئے تھے ۔ واضح رہے کہ برطانوی فلمساز لیلیٰ وڈوین اور بی بی سی نے جیل میں مقید مکیش سنگھ سے ایک انٹرویو لیا تھا اور وہ اس بس کا ڈرائیور تھا جس میں 16 ڈسمبر 2012 ء کی شب ایک پیرا میڈیکل طالبہ کی 6 افراد نے اجتماعی عصمت ریزی کردی تھی۔ انٹرویو میں مکیش سنگھ نے بعض متنازعہ تبصرے کئے ہیں جس پر غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ اگرچیکہ فلمساز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں سزا یافتہ مجرم سے انٹرویو کیلئے ڈائرکٹر جنرل تہاڑ جیل ایملا مہرہ سے اجازت حاصل کی تھی لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ زیر تحقیقات ہے ۔