عصمت ریزی کیس کے سزا یافتہ مجرم سے انٹرویو پر تنازعہ

نئی دہلی ۔ 3 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج تہاڑ جیل میں 16 دسمبر کے اجتماعی عصمت ریزی کیس کے سزا یافتہ قیدی سے برطانوی فلمساز کے انٹرویو پر شدید اعتراض کیا ہے اور اس معاملہ پر جیل کے سربراہ سے ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جیل میں مقید ایک مجرم سے انٹرویو لینے کے تنازعہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ڈائرکٹر جنرل تہاڑ جیل الوک کمار ورما سے بات چیت کی اور فی الفور ایک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ڈائرکٹر جنرل سے وزیر داخلہ کو اس واقعہ کی تفصیلات اور اب تک کی گئی کارروائی سے واقف کروایا ۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی فلمساز لیسلی ووڈون اور بی بی سی کو بس ڈائیور مکیش سنگھ سے انٹرویو کی اجازت دی گئی ۔ جسے 16 دسمبر 2012 کو ایک 23 سالہ لڑکی کی بہیمانہ عصمت ریزی اور قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی ہے ۔

انٹرویو میں مکیش نے کہا تھا کہ جو خواتین رات کے اوقات میں باہر گھومتی ہیں وہ خود بدمعاشوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں اور ایک لڑکی عصمت ریزی کے لیے قصور وار لڑکے سے زیادہ وہ خود ذمہ دار ہوتی ہے ۔ مکیش نے بتایا کہ عصمت ریزی کے وقت لڑکی اور اس کا عاشق ( بوائے فرینڈ ) کو مزاحمت نہیں کرنا چاہئے ۔ بصورت دیگر عصمت ریزی کرنے والی ٹولی مشتعل ہو کر مار پیٹ کے لیے مجبور ہوجاتی ہے جس کے نتیجہ میں ہلاکت واقع ہوجاتی ہے ۔ ہلاکت کے واقعہ کو اتفاق قرار دیتے ہوئے مکیش نے کہا کہ جب کبھی عصمت ریزی کی جاتی ہے تو مزاحمت نہیں کرنی چاہئے اور اسے خاموش ہو کر اس کی اجازت دیدینی چاہئے جس کے بعد اس لڑکی کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ صرف لڑکے کو نشانہ بنایا جائے گا۔۔