عصمت ریزی کا شکار راہبہ ہاسپٹل سے ڈسچارج

رانا گھاٹ( مغربی بنگال )۔ /20مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اجتماعی عصمت ریزی کا شکار معمر عیسائی راہبہ کو آج صبح سویرے ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا اور وہ نامعلوم مقام کیلئے روانہ ہوگئیں جبکہ عصمت ریزی کا واقعہ پیش آئے6دن گذرجانے کے باوجود ایک بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ رانا گھاٹ سب ڈیویژنل ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اے این منڈل نے بتایا کہ یہ راہبہ ڈسچارج کے بعد کولکتہ ایرپورٹ روانہ ہوگئی جہاں سے وہ نامعلوم مقام کیلئے پرواز کرگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ راہبہ کو شب کے 2:20 بجے ڈسچارج کیا گیا اور 25منٹ بعد اپنے سازو سامان کے ساتھ وہ روانہ ہوگئیں۔ ان کے ہمراہ ہاسپٹل کے ڈاکٹر اور کانونٹ اسکول کے عہدیدار تھے اور انہیں 10یوم کی ادویات بھی دی گئیں۔ ڈاکٹر منڈل نے بتایا کہ راہبہ کو مشورہ دیا گیا کہ 10یوم کے بعد ضرورت پڑنے پر ماہر امراض نسواں اور ماہر نفسیات سے مشاورت کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہاسپٹل میں راہبہ کے علاج کیلئے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے کل طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر صحتمند قرار دیا۔ تاہم کانونٹ کے عہدیداروں سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا۔ دریں اثناء کانونٹ آف یسوع اینڈ میری اسکول گنگنا پور نے حسب معمول کام کرنا شروع کردیا جہاں پر یہ راہبہ سسٹر سپریر تھی۔ پولیس نے بتایا کہ عصمت ریزی واقعہ پیش آئے 6یوم گذر گئے لیکن ایک بھی ملزم گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ تاہم اب کیس میں 15مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ حکومت مغربی بنگال نے مختلف گوشوں سے مطالبہ پر 18مارچ کو اس کیس کی سی بی آئی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن تحقیقاتی ادارہ نے اب تک اپنی ذمہ داری نہیں سنبھالی ہے۔ واضح رہے کہ ضلع ناڈیہ کے علاقہ رانا گھاٹ میں واقع ایک کانونٹ میں 14مارچ کو ایک 71سالہ راہبہ کی نامعلوم بدمعاشوں نے اجتماعی عصمت ریزی کی تھی جس کے بعد انہیں سرکاری ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا تھا۔ سی آئی ڈی ٹیم نے کل عصمت ریزی کے مقام کانونٹ کا دورہ کیا اور عمارت کی تصاویر اور قلمی خاکے حاصل کئے۔