عشرت جہاں کیس : 4اگست کو فیصلہ سنایا جائے گا

احمدآباد ۔ 19جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) خصوصی سی بی آئی کورٹ نے 4اگست تک اپنے فیصلہ کو محفوظ کرلیا جس میں دو ریٹائرڈ پولیس آفیسرس ڈی جی ونزارا اور این کے امین جنہوں نے عشرت جہاں کو سال 2004ء مںی ’’ شوٹ‘‘ کیا تھا ۔ کیس کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ عشرت جہاں کی مظلوم ماں نے اس درخواست کی پوری شدت سے مخالفت کی ۔ دونوں پولیس عہدیداروں نے مباحث میں کونسل میں کہا کہ انہیں اس کیس میں سی بی آئی نے جان بوجھ کر پھنسایا ہے جبکہ بقول ان کے ‘ وہ احمدرآباد میںجہاں ’’ عشرت جہاں ‘‘ کو شوٹ کیا گیا تھا وہ اس مقام پر موجود ہی نہیں تھے ‘ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں انہوں نے سابق ایکٹنگ ڈی جی پی ‘ پی پی پانڈے کو پیش کیا ۔ دوسری طرف مظلوم عشرت جہاں کی والدہ نے گجرات پولیس اور انٹلیجنس بیورو ( آئی بی ) عہدیداروں نے عشرت جہاں اور اس کے ساتھ 3دیگر افراد کو ’’ جوائنٹ آپریشن ‘‘ کرتے ہوئے انہیں ہلاک کردیا تھا ۔ شمیمہ کوثر کی کونسل نے کہاکہ اس کی دختر کا اغوا کیا اور غیرقانونی کنفائنمنٹ میں رکھتے ہوئے گجرات پولیس اور آئی بی عہدیداروں نے مل کر بہیمانہ مرڈر( قتل ) کیا گیا جسے بعد ازاں جھوٹے انکاؤنٹر کی کہانی گھڑی گئی کہ وہ پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے ۔ کثر کے ایڈوکیٹ پرویز پٹھان نے بحث کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ملزمین نے عدالت میں حتیٰ کہ سپلیمنٹری چارج شیٹ بھی داخل نہیں کی ۔ واضح رہے کہ اسپیشل سی بی آئی کورٹ میں سپلیمنٹری چارج شیٹ کی پیشکشی ابھی تک معرض التواء میں ہے جس میں آئی بی عہدیدار بشمول سابق اسپیشل ڈائرکٹر راجندر کمار کے نام شامل ہیں۔ ونزارا اور این کے امین کی ڈسچارج کی درخواست پر بحث چہارشنبہ کو مکمل ہوچکی ہے جس پر فیصلہ 4 اگست تک محفوظ کرلیا گیا ہے اور جس کا فیصلہ سی بی آئی جج ’’ جے کے پانڈیا ‘‘ نے کیا ہے ۔ کوثر نے ’’ پونئنٹ آؤٹ ‘‘ کیا کہ چشم دید گواہان کے بیانات کو سیکشن 164‘ کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں سینئر پولیس عہدیداروں کا رول ثابت کرتا ہے ۔ کوثر نے اس بات پر اعتراض کیا کہ ملزمین کی درخواستیں عشرت جہاں کے خلاف بے بنیاد‘ بدنامی ‘ تحقیر بھی موجب ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کی یہ درخواست اپنے جرم و گناہ کی عدالت سے پردہ پوشی کی مذزوم کوشش ہے ۔کوثر نے اپنے تحریر میں گجرات کورٹ میں پانڈے کے ڈسچارج آرڈر کو چیلنج کیا ۔ 19سالہ عشرت جہاں جو ممبئی کی کالج کی لڑکی تھی ‘اسے اور اسکے ساتھی جاوید شیخ اور دو پاکستانی قومیت والے امجد علی اکبر علی رانا اور ذیشان جوہر کو 15جون 2004ء کو قتل کردیا تھا ۔