عشرت جہاں انکاونٹر مقدمہ :مقصد پر سی بی آئی کی خاموشی کی جانب عدالت کی نشاندہی

احمدآباد۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک خصوصی عدالت نے آئی پی ایس عہدیداروں پی پی پانڈے اور ڈی جی ونزارا کو 2004ء کے عشرت جہاں فرضی انکاونٹر مقدمہ میں ضمانت پر رہائی منظوری دی ہے جبکہ عدالت نے نشاندہی کی کہ سی بی آئی تاحال ملزمین کے مقصد پر روشنی ڈالنے سے قاصر رہی ہے۔ ضمانت پر رہائی کے تفصیلی حکم نامہ میں جو کل جاری کیا گیا اور آج صحافت کو فراہم کیا گیا۔ سی بی آئی عدالت کے جج کے آر اپادھیائے نے کہا کہ پورا فردجرم مکمل طور پر مقصد کے پہلو کے بارے میں خاموش ہے۔ دونوں عہدیداروں پر اگر 2013ء میں سی بی آئی نے فردجرم عائد کیا تھا، مبینہ طور پر 19 سالہ عشرت جہاں ساکن ممبرا ، جاوید شیخ عرف پرنیش پلے ، امجد علی اکبر رعنا اور ذیشان جوہر کو گجرات پولیس نے 15 جون 2004ء کو شہر کے مضافات میں ایک فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیا تھا۔