عشرت جہاں انکاؤنٹر سی بی آئی اور وزارت داخلہ صف آراء

نئی دہلی ۔ /10 جون (سیاست ڈاٹ کام) عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں وزارت داخلہ اور سی بی آئی کے درمیان پھر ایک مرتبہ اختلافات نمودار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ سی بی آئی نے انٹلیجنس بیورو کے عہدیداروں کے بشمول سابق اسپیشل ڈائرکٹر راجندر کمار کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت طلب کی ہے اور دوسری طرف وزارت داخلہ نے عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں تحقیقاتی ایجنسی سے کیس ڈائری فراہم کرنے کی خواہش کی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی قانونی رائے حاصل کرے گی کہ کیس ڈائری کی معلومات دوسروں کو فراہم کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔ قانون کی دفعہ 172 کے تحت ہر پولیس عہدیدار کیلئے تحقیقات کا ریکارڈ اور ہر دن کی تحقیقات کو مقررہ نمونے کے مطابق کیس ڈائری میں درج کرنا ہوتا ہے ۔ یہ ڈائری تحقیقاتی عہدیدار کیلئے کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ جب کبھی کسی سرکاری عہدیدار کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت لاحق ہو ، سی بی آئی کیس کی تفصیلات فراہم کرتی ہے ۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اب تک کبھی بھی کیس ڈائری طلب نہیں کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں قانونی رائے حاصل کی جائے گی ۔