اسلام آباد ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے مساجد پر سلسلہ وار مہلک حملوں کے تناظر میں حکام کو ایسے مدرسوں کے خلاف سخت کارروائی انجام دینے کا حکم دیا ہے جو اس ملک میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی میں ملوث ہیں۔ کسی بھی دہشت گرد یا عسکری تنظیم کو نہیں بخشنا چاہئے، نواز شریف نے کل یہ بات کہی جبکہ وہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اس کمیٹی کی تشکیل جنوب مغربی صوبہ میں عسکریت پسندی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے کی گئی ہے۔ ایسی کمیٹیاں پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی تشکیل دی گئی ہیں جبکہ پشاور کے اسکول میں ہولناک قتل عام پیش آیا تھا، جس میں زیادہ تر اسٹوڈنٹس کے بشمول 150 افراد ہلاک ہوگئے۔
نواز شریف کے حوالے سے ’ڈان‘ نے کہا کہ کسی کو بھی شورش پسندی پھیلانے اور فرقہ واری اور دیگر تنظیموں کی سرپرستی میں تشدد کے ارتکاب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث مدارس اور تنظیموں کی شناخت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہئے، نیز اُن کی حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کا صفایا کرنے کی پابند عہد ہے۔ نواز شریف نے صوبائی حکومتوں سے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی میں قومی منصوبہ عمل (این اے پی ) پر عمل درآمد کریں ۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبہ کے مقاصد کے حصول کیلئے ہمیں سخت فیصلے کرنے ہوں گے ۔ نواز شریف نے زور دیا کہ دہشت گردی سے آہنی پنجہ کے ساتھ نمٹنا لازمی ہے اور جو عسکری اور دہشت گروپ حکومت کے ساتھ امن بات چیت منعقد کرنے کیلئے تیار نہیں انھیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ پاکستان اس تذبذب میں مبتلا ہے کہ اس ملک میں طاقتور مولویوں کے زیرانتظام ہزاروں مدارس پر کس طرح نظر رکھی جائے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان میں سے کئی انتہاپسندی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور بعض مدارس عسکریت پسندوں کو آسرا فراہم کررہے ہیں اور جہادیوں کو تیار کررہے ہیں ۔