ممبئی۔/12جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی کے 32سالہ سافٹ ویر انجینئر عرفان جعفری جس کا تین ماہ قبل سوڈان کے شہر دارفور میں بندوق برداروں نے اغواء کیا تھا، کے ارکان خاندان نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں وہ خود کو بالکل یکا و تنہا سمجھ رہے ہیں اور اغواء کاروں کو تاوان کی رقم ادا کرنے بھی تیار ہیں۔ عرفان جعفری کی 30 سالہ اہلیہ نفیسہ جعفری نے آبدیدہ ہوکر کہا کہ اغواء کاروں نے عرفان کی رہائی کیلئے تاوان کی جو رقم مانگی ہے، وہ ہم ادا کرنے تیار ہیں۔ میرے لیئے اپنے شوہر سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ اقوام متحدہ اور حکومت ہند کی ’’ تاوان ادا نہ کرنے‘‘ کی پالیسی ہم کو جیتے جی ماردے گی۔ عرفان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اور ایسے وقت ہم خود کو بالکل یکا و تنہا محسوس کررہے ہیں۔ لہذا میں وزیرخارجہ سشما سوراج سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ہمارے درد کو سمجھیں اور میرے شوہر کو واپس لانے میں ہماری مدد کریں۔ اپنے سات سالہ بیٹے کا ہاتھ پکر کر نفیسہ نے روتے روتے یہ بات بتائی۔
نفیسہ تھانے ضلع کے ڈومبیولی میں رہائش پذیر ہے۔ نفیسہ نے بتایا کہ عرفان ترگیان ٹکنالوجیز لمیٹیڈ میں بحیثیت آئی ٹی انجینئر گذشتہ پانچ سال سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ایک سال میں دو بار ہندوستان آیا کرتے تھے۔ نفیسہ نے ایک اہم بات بتائی کہ عرفان کی کمپنی میں انہیں اقوام متحدہ سے مربوط اطلاعات و مواصلات سے جڑی ٹکنالوجی کا کام سونپا گیا تھا اور فی الحال اقوام متحدہ اغوا کاروں کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ پالیسی ہے کہ ’’ اغوا کاروں کو تاوان نہ دیا جائے ‘‘۔ یاد رہے کہ 11مارچ کو پانچ مسلح بندوق برداروں کے ایک گروپ نے عرفان کا ایک ٹرکش ریستوران کے باہر سے اغواء کرلیا تھا اور اسوقت سے اب تک و دارفور کے ایک قبائیلی علاقہ میں اغواء کاروں کی قید میں ہیں۔ نفیسہ نے بتایا کہ 12مارچ کو انھیں عرفان کی آئی ٹی کمپنی سے ایک فون کا ل موصول ہوا جس میں انہیں یہ درد ناک اطلاع دی گئی کہ عرفان کا اغواء کیا گیا ہے۔ اس خبر نے ہمارے ہوش اُڑادیئے اور پورے خاندان کو تشویش میں مبتلاء کردیا۔